مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر زنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر

— مرزا غالب