مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

وہ فراق اور وہ وصال کہاں

وہ فراق اور وہ وصال کہاں وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں فرصت کاروبار شوق کسے ذوق نظارۂ جمال کہاں دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا شور سودائے خط و خال کہاں تھی وہ اک شخص کے تصور سے اب وہ رعنائی خیال کہاں ایسا آساں نہیں لہو رونا دل میں طاقت جگر میں حال کہاں ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشق واں جو جاویں گرہ میں مال کہاں فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں میں کہاں اور یہ وبال کہاں مضمحل ہو گئے قویٰ غالب وہ عناصر میں اعتدال کہاں بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے پر مجھے طاقت سوال کہاں فلک سفلہ بے محابا ہے اس ستمگر کو انفعال کہاں

— مرزا غالب

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا دل جگر تشنۂ فریاد آیا دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز پھر ترا وقت سفر یاد آیا سادگی ہائے تمنا یعنی پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا عذر واماندگی اے حسرت دل نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی کیوں ترا راہ گزر یاد آیا کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی گھر ترا خلد میں گر یاد آیا آہ وہ جرأت فریاد کہاں دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال دل گم گشتہ مگر یاد آیا کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا عین جنت میں سقر یاد آیا

— مرزا غالب