مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

— مرزا غالب