مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا

عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا برروئے شش جہت در آئینہ باز ہے یاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے آئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے یاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوا دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

— مرزا غالب

درد منت کش دوا نہ ہوا

درد منت کش دوا نہ ہوا میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا ہے خبر گرم ان کے آنے کی آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا زخم گر دب گیا لہو نہ تھما کام گر رک گیا روا نہ ہوا رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے لے کے دل دل ستاں روانہ ہوا کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا

— مرزا غالب