مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

صباگل کا پیش کردہ کلام

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں تیری فرصت کے مقابل اے عمر برق کو پابہ حنا باندھتے ہیں قید ہستی سے رہائی معلوم اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں نشۂ رنگ سے ہے واشد گل مست کب بند قبا باندھتے ہیں غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں اہل تدبیر کی واماندگیاں آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔ ہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں میرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں حسن افسردہ دل ہا رنگیں شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں قید میں بھی ہے اسیری آزاد چشم زنجیر کو وا باندھتے ہیں شیخ جی کعبے کا جانا معلوم آپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ دست شانہ بہ قضا باندھتے ہیں تیرے بیمار پہ ہیں فریادی وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں

— مرزا غالب