سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے شکن زلف عنبریں کیوں ہے نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا اور درویش کی صدا کیا ہے جان تم پر نثار کرتا ہوں میں نہیں جانتا دعا کیا ہے میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے