مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

وسیم بخاری کا پیش کردہ کلام

درد ہو دل میں تو دعا کیجے

درد ہو دل میں تو دوا کیجے دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے ہم کو فریاد کرنی آتی ہے آپ سنتے نہیں تو کیا کیجے ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب توبہ توبہ، خدا خدا کیجے رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہوگی پہلے دل درد آشنا کیجے عرضِ شوخی، نشاطِ عالم ہے حسن کو اور خود نما کیجے دشمنی ہو چکی بہ قدرِ وفا اب حقِ دوستی ادا کیجے موت آتی نہیں کہیں غالب کب تک افسوس زیست کا کیجے

— مرزا غالب