حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

باسط میر کا پیش کردہ کلام

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پر جاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تاب تصویر پریشانئ عالم ہے مری جاں یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں ہم سادہ دلوں پر یہ شب غم کا تسلط مایوس نہ ہو اور کوئی دم ہے مری جاں یہ تیری توجہ کا ہے اعجاز کہ مجھ سے ہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں اے نزہت مہتاب ترا غم ہے مری زیست اے نازش خورشید ترا غم ہے مری جاں

— حبیب جالب