سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
رابعہ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
انتظار حسین
ایم سعید
باسط میر
حسن شبیر
خواجہ اشرف
راجا اکرام قمر
ریبل
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شاعرجنوب
طارق
ظفر نقوی
عروج فیاض
مرزا جواد
ملک
نگاہ بسمل
باسط میر کا پیش کردہ کلام
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پر جاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تاب تصویر پریشانئ عالم ہے مری جاں یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں ہم سادہ دلوں پر یہ شب غم کا تسلط مایوس نہ ہو اور کوئی دم ہے مری جاں یہ تیری توجہ کا ہے اعجاز کہ مجھ سے ہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں اے نزہت مہتاب ترا غم ہے مری زیست اے نازش خورشید ترا غم ہے مری جاں