حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے شبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہے آشفتہ سری ہے مری آشفتہ سری ہے اپنی تو اجالوں کو ترستی ہیں نگاہیں سورج کہاں نکلا ہے کہاں صبح ہوئی ہے بچھڑی ہوئی راہوں سے جو گزرے ہیں کبھی ہم ہر گام پہ کھوئی ہوئی اک یاد ملی ہے اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے ہنسنے پہ نہ مجبور کرو لوگ ہنسیں گے حالات کی تفسیر تو چہرے پہ لکھی ہے مل جائیں کہیں وہ بھی تو ان کو بھی سنائیں جالبؔ یہ غزل جن کے لیے ہم نے کہی ہے

— حبیب جالب

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا تجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت پھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتے کیا ہوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا جانے کس حال میں ہیں کون سے شہروں میں ہیں وہ زندگی اپنی جنہیں ہم نے بنائے رکھا ہائے کیا لوگ تھے وہ لوگ پری چہرہ لوگ ہم نے جن کے لیے دنیا کو بھلائے رکھا اب ملیں بھی تو نہ پہچان سکیں ہم ان کو جن کو اک عمر خیالوں میں بسائے رکھا

— حبیب جالب