سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے شبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہے آشفتہ سری ہے مری آشفتہ سری ہے اپنی تو اجالوں کو ترستی ہیں نگاہیں سورج کہاں نکلا ہے کہاں صبح ہوئی ہے بچھڑی ہوئی راہوں سے جو گزرے ہیں کبھی ہم ہر گام پہ کھوئی ہوئی اک یاد ملی ہے اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے ہنسنے پہ نہ مجبور کرو لوگ ہنسیں گے حالات کی تفسیر تو چہرے پہ لکھی ہے مل جائیں کہیں وہ بھی تو ان کو بھی سنائیں جالبؔ یہ غزل جن کے لیے ہم نے کہی ہے
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا تجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت پھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتے کیا ہوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا جانے کس حال میں ہیں کون سے شہروں میں ہیں وہ زندگی اپنی جنہیں ہم نے بنائے رکھا ہائے کیا لوگ تھے وہ لوگ پری چہرہ لوگ ہم نے جن کے لیے دنیا کو بھلائے رکھا اب ملیں بھی تو نہ پہچان سکیں ہم ان کو جن کو اک عمر خیالوں میں بسائے رکھا