حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

ریبل کا پیش کردہ کلام

میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں

میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں مرے ارد گرد آنسو ،مرے آس پاس آہیں نہ وہ عارضوں کی صبحیں نہ وہ گیسوؤں کی شامیں کہیں دور رہ گئی ہیں مرے شوق کی پناہیں نہ فریب دے سکے گی ہمیں اب کسی کی چاہت کہ رلا چکی ہیں ہم کو تری کم سخن نگاہیں کہیں گیس کا دھواں ہے کہیں گولیوں کی بارش شبِ عہدِ کم نگاہی تجھے کس طرح سراہیں کوئی دم کی رات ہے یہ ،کوئی پل کی بات ہے یہ نہ رہے گا کوئی قاتل ، نہ رہیں گی قتل گاہیں میں زمیں کا آدمی ہوں، مجھے کام ہے زمیں سے یہ فلک پہ رہنے والے مجھے چاہیں یا نہ چاہیں نہ مذاق اڑا سکیں گے مری مفلسی کا جالب یہ بلند بام ایواں ،یہ عظیم بارگاہیں​

— حبیب جالب