حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

طارق کا پیش کردہ کلام

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

— حبیب جالب

ممتاز

قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو اپنے ہونٹوں کی خوشبو لٹانے چلو گیت گانے چلو ورنہ تھانے چلو منتظر ہیں تمہارے شکاری وہاں کیف کا ہے سماں اپنے جلووں سے محفل سجانے چلو مسکرانے چلو ورنہ تھانے چلو حاکموں کو بہت تم پسند آئی ہو ذہن پر چھائی ہو جسم کی لو سے شمعیں جلانے چلو، غم بھلانے چلو ورنہ تھانے چلو

— حبیب جالب