سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا اپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت اس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا وہ بات چھیڑ جس میں جھلکتا ہو سب کا غم یادیں کسی کی تجھ کو ستائیں کسی کو کیا سوئے ہوئے ہیں لوگ تو ہوں گے سکون سے ہم جاگنے کا روگ لگائیں کسی کو کیا جالبؔ نہ آئے گا کوئی احوال پوچھنے دیں شہر بے حساں میں صدائیں کسی کو کیا
رات کُلیہنی
دنیاں بھر دے کالے چٹے چور لٹیرے سوچیں پے گئے کی ہویا رات جے مکّ گئی جے دھرتی دے کامیاں اگے گردن جھکّ گئی کی ہووےگا ؟ رات نوں روکو روشنیاں دے ہڑھ دے اگے اُچیاں اُچیاں کندھاں چُکو رات نوں روکو ہُڑھ دی گونج تے گُھوکر سن کے تاجاں تے تختاں دی دنیاں کمب اٹھی اے اک مٹھی اے جدوں ایہناں دی لُٹّ کھسٹّ نوں خطرہ پیندا ربّ رسول نوں خطرے دے وچ پا دیندے نے ربّ رسول دے حکم نال ایہہ ریہن نہیں لگے خونی قاتل چور لٹیرے کالے بگے جالب بھاویں لَکھ اکٹھے ہو ہو بہون نہیں ہُن رہنی رات کُلیہنی نہیں ہُن رہنی
مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں
مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں ہم محو تماشائے سر راہ گزر ہیں حسرت سی برستی ہے در و بام پہ ہر سو روتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں آئے تھے یہاں جن کے تصور کے سہارے وہ چاند وہ سورج وہ شب و روز کدھر ہیں سوئے ہو گھنی زلف کے سائے میں ابھی تک اے راہرواں کیا یہی انداز سفر ہیں وہ لوگ قدم جن کے لیے کاہکشاں نے وہ لوگ بھی اے ہم نفسو ہم سے بشر ہیں بک جائیں جو ہر شخص کے ہاتھوں سر بازار ہم یوسف کنعاں ہیں نہ ہم لعل و گہر ہیں ہم لوگ ملیں گے تو محبت سے ملیں گے ہم نزہت مہتاب ہیں ہم نور سحر ہیں
ایک پوُرا جہان تھی پہلے
ایک پوُرا جہان تھی پہلے یہ زمین آسمان تھی پہلے راکھ ہو کر یقین آیا ہے آگ وہم و گمان تھی پہلے اُڑ رہی ہے جو آسمان پہ خاک میرا خستہ مکان تھی پہلے یہ جو بڑُھیا پڑی ہے کونے میں اِس حویلی کی شان تھی پہلے ہجر بکتا ہے اب جہاں پہ مِیاں وصل کی یہ دکان تھی پہلے اُڑنا سیکھا تو اب میں ڈرتا ہوں کتنی اُونچی اُڑان تھی پہلے آو مِلتے ہیں اب تسلی سے زندگی درمیان تھی پہلے