حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا اپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت اس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا وہ بات چھیڑ جس میں جھلکتا ہو سب کا غم یادیں کسی کی تجھ کو ستائیں کسی کو کیا سوئے ہوئے ہیں لوگ تو ہوں گے سکون سے ہم جاگنے کا روگ لگائیں کسی کو کیا جالبؔ نہ آئے گا کوئی احوال پوچھنے دیں شہر بے حساں میں صدائیں کسی کو کیا

— حبیب جالب

رات کُلیہنی

دنیاں بھر دے کالے چٹے چور لٹیرے سوچیں پے گئے کی ہویا رات جے مکّ گئی جے دھرتی دے کامیاں اگے گردن جھکّ گئی کی ہووےگا ؟ رات نوں روکو روشنیاں دے ہڑھ دے اگے اُچیاں اُچیاں کندھاں چُکو رات نوں روکو ہُڑھ دی گونج تے گُھوکر سن کے تاجاں تے تختاں دی دنیاں کمب اٹھی اے اک مٹھی اے جدوں ایہناں دی لُٹّ کھسٹّ نوں خطرہ پیندا ربّ رسول نوں خطرے دے وچ پا دیندے نے ربّ رسول دے حکم نال ایہہ ریہن نہیں لگے خونی قاتل چور لٹیرے کالے بگے جالب بھاویں لَکھ اکٹھے ہو ہو بہون نہیں ہُن رہنی رات کُلیہنی نہیں ہُن رہنی

— حبیب جالب

مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں

مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں ہم محو تماشائے سر راہ گزر ہیں حسرت سی برستی ہے در و بام پہ ہر سو روتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں آئے تھے یہاں جن کے تصور کے سہارے وہ چاند وہ سورج وہ شب و روز کدھر ہیں سوئے ہو گھنی زلف کے سائے میں ابھی تک اے راہرواں کیا یہی انداز سفر ہیں وہ لوگ قدم جن کے لیے کاہکشاں نے وہ لوگ بھی اے ہم نفسو ہم سے بشر ہیں بک جائیں جو ہر شخص کے ہاتھوں سر بازار ہم یوسف کنعاں ہیں نہ ہم لعل و گہر ہیں ہم لوگ ملیں گے تو محبت سے ملیں گے ہم نزہت مہتاب ہیں ہم نور سحر ہیں

— حبیب جالب

ایک پوُرا جہان تھی پہلے

ایک پوُرا جہان تھی پہلے یہ زمین آسمان تھی پہلے راکھ ہو کر یقین آیا ہے آگ وہم و گمان تھی پہلے اُڑ رہی ہے جو آسمان پہ خاک میرا خستہ مکان تھی پہلے یہ جو بڑُھیا پڑی ہے کونے میں اِس حویلی کی شان تھی پہلے ہجر بکتا ہے اب جہاں پہ مِیاں وصل کی یہ دکان تھی پہلے اُڑنا سیکھا تو اب میں ڈرتا ہوں کتنی اُونچی اُڑان تھی پہلے آو مِلتے ہیں اب تسلی سے زندگی درمیان تھی پہلے

— عاطف جاوید عاطف