حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

رابعہ کا پیش کردہ کلام

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

بے نام سے سپنے دکھلا کر اے دل ہر جا نہ پھسلا کر یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نہ نکلا کر نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں ہاں کہنے کو وہ خادم ہیں یہاں الٹی گنگا بہتی ہے اس دیس میں اندھے حاکم ہیں یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نہ نکلا کر یہاں راقم سارے لکھتے ہیں قوانین یہاں نہ ٹکتے ہیں ہیں یہاں پر کاروبار بہت اس دیس میں گردے بکتے ہیں یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نہ نکلا کر یہاں ڈالر ڈالر ہوتی ہے کسوٹی ہے جی ڈی پی اور کچھ لوگ ہیں عالیشان بہت اور کچھ کا مقصد روٹی ہے یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نہ نکلا کر امید کو لے کر پڑھتے ہیں پھر ڈگری لے کر پھرتے ہیں جب جاب نہ ان کو ملتی ہے پھر خودکش حملے کرتے ہیں یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نہ نکلا کر وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے اور فوج کا راج ہی سچا ہے کھوتا گاڑی والا کیوں مانے جب بھوکا اس کا بچہ ہے یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نہ نکلا کر

— حبیب جالب

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

— حبیب جالب