سپیکرز
خواجہ اشرف کا پیش کردہ کلام
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پر وہ نوحہ گر ہے خطرے میں وہ دانشور ہے خطرے میں اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں جہاں اقبالؔ بھی نذر خط تنسیخ ہو جالبؔ وہاں تجھ کو شکایت ہے ترا جوہر ہے خطرے میں
پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل
پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل شاید ملے غزل کا پتا اس گلی میں چل کب سے نہیں ہوا ہے کوئی شعر کام کا یہ شعر کی نہیں ہے فضا اس گلی میں چل وہ بام و در وہ لوگ وہ رسوائیوں کے زخم ہیں سب کے سب عزیز جدا اس گلی میں چل اس پھول کے بغیر بہت جی اداس ہے مجھ کو بھی ساتھ لے کے صبا اس گلی میں چل دنیا تو چاہتی ہے یوں ہی فاصلے رہیں دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل بے نور و بے اثر ہے یہاں کی صدائے ساز تھا اس سکوت میں بھی مزا اس گلی میں چل جالبؔ پکارتی ہیں وہ شعلہ نوائیاں یہ سرد رت یہ سرد ہوا اس گلی میں چل