حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

اپنی جنگ رہے گی

جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی اہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی مغرب کے چہرے پر یارو اپنے خون کی لالی ہے لیکن اب اس کے سورج کی ناؤ ڈوبنے والی ہے مشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی ظلم کہیں بھی ہو ہم اس کا سر خم کرتے جائیں گے محلوں میں اب اپنے لہو کے دئے نہ جلنے پائیں گے کٹیاؤں سے جب تک صبحوں نے منہ پھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی جان لیا اے اہل کرم تم ٹولی ہو عیاروں کی دست نگر کیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خودداروں کی ڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیں اپنی جنگ رہے گی

— حبیب جالب

ماں

بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئے مرے ہوتے میں دور کھڑی دیکھوں یہ مجھ سے نہیں ہوگا میں دور کھڑی دیکھوں اور اہل ستم کھیلیں خوں سے مرے بچوں کے دن رات یہاں ہولی بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئیں مرے ہوتے میں دور کھڑی دیکھوں یہ مجھ سے نہیں ہوگا میداں میں نکل آئی اک برق سی لہرائی ہر دست ستم کانپا بندوق بھی تھرائی ہر سمت صدا گونجی میں آتی ہوں میں آئی میں آتی ہوں میں آئی ہر ظلم ہوا باطل اور سہم گئے قاتل جب اس نے زباں کھولی بچوں پہ چلی گولی اس نے کہا خوں خوارو! دولت کے پرستارو دھرتی ہے یہ ہم سب کی اس دھرتی کو نا دانو! انگریز کے دربانو صاحب کی عطا کردہ جاگیر نہ تم جانو اس ظلم سے باز آؤ بیرک میں چلے جاؤ کیوں چند لٹیروں کی پھرتے ہو لیے ٹولی بچوں پہ چلی گولی

— حبیب جالب