سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
اپنی جنگ رہے گی
جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی اہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی مغرب کے چہرے پر یارو اپنے خون کی لالی ہے لیکن اب اس کے سورج کی ناؤ ڈوبنے والی ہے مشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی ظلم کہیں بھی ہو ہم اس کا سر خم کرتے جائیں گے محلوں میں اب اپنے لہو کے دئے نہ جلنے پائیں گے کٹیاؤں سے جب تک صبحوں نے منہ پھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی جان لیا اے اہل کرم تم ٹولی ہو عیاروں کی دست نگر کیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خودداروں کی ڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیں اپنی جنگ رہے گی
ماں
بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئے مرے ہوتے میں دور کھڑی دیکھوں یہ مجھ سے نہیں ہوگا میں دور کھڑی دیکھوں اور اہل ستم کھیلیں خوں سے مرے بچوں کے دن رات یہاں ہولی بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئیں مرے ہوتے میں دور کھڑی دیکھوں یہ مجھ سے نہیں ہوگا میداں میں نکل آئی اک برق سی لہرائی ہر دست ستم کانپا بندوق بھی تھرائی ہر سمت صدا گونجی میں آتی ہوں میں آئی میں آتی ہوں میں آئی ہر ظلم ہوا باطل اور سہم گئے قاتل جب اس نے زباں کھولی بچوں پہ چلی گولی اس نے کہا خوں خوارو! دولت کے پرستارو دھرتی ہے یہ ہم سب کی اس دھرتی کو نا دانو! انگریز کے دربانو صاحب کی عطا کردہ جاگیر نہ تم جانو اس ظلم سے باز آؤ بیرک میں چلے جاؤ کیوں چند لٹیروں کی پھرتے ہو لیے ٹولی بچوں پہ چلی گولی