حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

عروج فیاض کا پیش کردہ کلام

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو کل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیں ہو جائے گی رات بسر خاموش رہو شاید چپ رہنے میں عزت رہ جائے چپ ہی بھلی اے اہل نظر خاموش رہو قدم قدم پر پہرے ہیں ان راہوں میں دار و رسن کا ہے یہ نگر خاموش رہو یوں بھی کہاں بے تابئ دل کم ہوتی ہے یوں بھی کہاں آرام مگر خاموش رہو شعر کی باتیں ختم ہوئیں اس عالم میں کیسا جوشؔ اور کس کا جگرؔ خاموش رہو

— حبیب جالب