سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
دستور
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
مجبور عورت دا گیت
ایہہ گھنگرو نہیں زنجیراں نے دنیا نے پیریں پائیاں ایہہ چھنک دیاں رسوائیاں نہیں سندا کوئی دہائیاں دل ساتھ نہ دئے تاں ہسنا کی ؟ بستی وچ ظلم دی وسنا کی ؟ حال اپنا کسے نوں دَسنا کی ؟ چپ رہنا ای تقدیراں نے ایہہ گھنگرو نہیں زنجیراں نے کئی کہندے نچ بازاراں وچ کئی چُندے رہے دیواراں وچ رہی شرم نہ رانجھن یاراں وچ ہوئیاں بے بس لکھاں ہیراں نے ایہہ گھنگرو نہیں زنجیراں نے