حبیب جالب

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)

26 November 2025

16سپیکرز
351لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

دستور

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

— حبیب جالب

مجبور عورت دا گیت

ایہہ گھنگرو نہیں زنجیراں نے دنیا نے پیریں پائیاں ایہہ چھنک دیاں رسوائیاں نہیں سندا کوئی دہائیاں دل ساتھ نہ دئے تاں ہسنا کی ؟ بستی وچ ظلم دی وسنا کی ؟ حال اپنا کسے نوں دَسنا کی ؟ چپ رہنا ای تقدیراں نے ایہہ گھنگرو نہیں زنجیراں نے کئی کہندے نچ بازاراں وچ کئی چُندے رہے دیواراں وچ رہی شرم نہ رانجھن یاراں وچ ہوئیاں بے بس لکھاں ہیراں نے ایہہ گھنگرو نہیں زنجیراں نے

— حبیب جالب