اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے ہمارا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے ہمیں اس عالم ہجراں میں بھی رک رک کے چلنا ہے انہیں جانے دیا جائے جنہیں عجلت زیادہ ہے یہ دل باہر دھڑکتا ہے یہ آنکھ اندر کو کھلتی ہے ہم ایسے مرحلے میں ہیں جہاں زحمت زیادہ ہے سو ہم فریادیوں کی ایک اپنی صف الگ سے ہو ہمارا مسئلہ یہ ہے ہمیں حیرت زیادہ ہے سمجھ پائے نہیں دیکھے بغیر اس کا نظر آنا مشقت کم سے کم کی تھی مگر اجرت زیادہ ہے تماشا گاہ چاروں سمت سے پر شور ہے یعنی کہیں جلوت زیادہ ہے کہیں خلوت زیادہ ہے تجھے حلقہ بہ حلقہ کھینچتے پھرتے ہیں دنیا میں سو اے زنجیر پا یوں بھی تری شہرت زیادہ ہے یہ ساری آمد و رفت ایک جیسی تو نہیں شاہینؔ کہ دنیا میں سفر کم کم ہے اور ہجرت زیادہ ہے

— شاہین عباس