اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا میں ویرانی پہ اتنا تو اثر انداز ہو سکتا یہ میری خامشی اس انتہا کی خامشی ہوتی کسی بھی شام کا میں نقطۂ آغاز ہو سکتا میں بیتابانہ ان گلیوں میں پھرتا یہ مرا حق تھا مری دستک پہ شہر خواب کا در باز ہو سکتا یہ دن اور رات کس جانب اڑے جاتے ہیں صدیوں سے کہیں رکتے تو میں بھی شامل پرواز ہو سکتا کم از کم خاک و خوں کی گم شدہ کڑیاں ہی مل جاتیں سر دنیا یہ دل اتنا تو در انداز ہو سکتا

— شاہین عباس

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو منزل سے گرد، گرد سے رستہ جدا کرو اک نقش ہو نہ پائے ادھر سے ادھر مرا جیسا تمہیں ملا تھا میں ویسا جدا کرو شب زادگاں! تم اہل خبر سے نہیں سو تم! اپنا مدار اپنا مدینہ جدا کرو یاں پے بہ پے جو خواب کھلے نے بہ نے کھلے جتنا جدا یہ ہو سکے اتنا جدا کرو میں تھا کہ اپنے آپ میں خالی سا ہو گیا اس نے تو کہہ دیا مرا حصہ جدا کرو

— شاہین عباس

جھگڑے اپنے بھی ہوں جب چاک گریبانوں کے

جھگڑے اپنے بھی ہوں جب چاک گریبانوں کے کام ہوتے ہوئے رہ جاتے ہیں ویرانوں کے جیسے آنکھوں کے یہ دو تل ہوں جو تبدیل نہ ہوں غول آتے ہوئے جاتے ہوئے انسانوں کے لوگ ہی لوگ اڑے جاتے ہیں گلیوں گلیوں ہم نے کچھ نقشے اچھالے تھے بیابانوں کے آسماں گرتا ہوا صاف نظر آتا ہے بالا خانوں میں یہ در کھلتے ہیں تہہ خانوں کے بات کی اور پھر اس بات کا مطلب پوچھا دن برے بھی بڑے اچھے رہے دیوانوں کے

— شاہین عباس