سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا میں ویرانی پہ اتنا تو اثر انداز ہو سکتا یہ میری خامشی اس انتہا کی خامشی ہوتی کسی بھی شام کا میں نقطۂ آغاز ہو سکتا میں بیتابانہ ان گلیوں میں پھرتا یہ مرا حق تھا مری دستک پہ شہر خواب کا در باز ہو سکتا یہ دن اور رات کس جانب اڑے جاتے ہیں صدیوں سے کہیں رکتے تو میں بھی شامل پرواز ہو سکتا کم از کم خاک و خوں کی گم شدہ کڑیاں ہی مل جاتیں سر دنیا یہ دل اتنا تو در انداز ہو سکتا
صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو
صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو منزل سے گرد، گرد سے رستہ جدا کرو اک نقش ہو نہ پائے ادھر سے ادھر مرا جیسا تمہیں ملا تھا میں ویسا جدا کرو شب زادگاں! تم اہل خبر سے نہیں سو تم! اپنا مدار اپنا مدینہ جدا کرو یاں پے بہ پے جو خواب کھلے نے بہ نے کھلے جتنا جدا یہ ہو سکے اتنا جدا کرو میں تھا کہ اپنے آپ میں خالی سا ہو گیا اس نے تو کہہ دیا مرا حصہ جدا کرو
جھگڑے اپنے بھی ہوں جب چاک گریبانوں کے
جھگڑے اپنے بھی ہوں جب چاک گریبانوں کے کام ہوتے ہوئے رہ جاتے ہیں ویرانوں کے جیسے آنکھوں کے یہ دو تل ہوں جو تبدیل نہ ہوں غول آتے ہوئے جاتے ہوئے انسانوں کے لوگ ہی لوگ اڑے جاتے ہیں گلیوں گلیوں ہم نے کچھ نقشے اچھالے تھے بیابانوں کے آسماں گرتا ہوا صاف نظر آتا ہے بالا خانوں میں یہ در کھلتے ہیں تہہ خانوں کے بات کی اور پھر اس بات کا مطلب پوچھا دن برے بھی بڑے اچھے رہے دیوانوں کے