اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں

کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں یہ گھر تعمیر در تعمیر سے تنگ آ گئے ہیں کئی عالم میں شور اٹھتا ہے اس زنجیر پا سے کئی عالم مری زنجیر سے تنگ آ گئے ہیں تو کیا اس راز سے سینہ چھڑا لیں سانس لے لیں ہم اس تصویر میں تصویر سے تنگ آ گئے ہیں انہیں فرشوں پہ تکیہ تھا مگر یہ فرش بھی تو ہمارے نالۂ شبگیر سے تنگ آ گئے ہیں مچانوں میں سے آنسو گر رہے ہیں خاک اوپر شکاری ہیں کہ جو تقدیر سے تنگ آ گئے ہیں عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر گلی کوچے اب اس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں وضاحت کرتے کرتے زندگی پر مرتے مرتے مسلسل ایک ہی تعزیر سے تنگ آ گئے ہیں

— شاہین عباس