سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
پرشانت
جاسمین
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں
کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں یہ گھر تعمیر در تعمیر سے تنگ آ گئے ہیں کئی عالم میں شور اٹھتا ہے اس زنجیر پا سے کئی عالم مری زنجیر سے تنگ آ گئے ہیں تو کیا اس راز سے سینہ چھڑا لیں سانس لے لیں ہم اس تصویر میں تصویر سے تنگ آ گئے ہیں انہیں فرشوں پہ تکیہ تھا مگر یہ فرش بھی تو ہمارے نالۂ شبگیر سے تنگ آ گئے ہیں مچانوں میں سے آنسو گر رہے ہیں خاک اوپر شکاری ہیں کہ جو تقدیر سے تنگ آ گئے ہیں عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر گلی کوچے اب اس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں وضاحت کرتے کرتے زندگی پر مرتے مرتے مسلسل ایک ہی تعزیر سے تنگ آ گئے ہیں