اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ

ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ چل تماشا کریں ذرا سا کچھ سامنے سے یہ کائنات ہٹاؤ ہو رہا ہے مغالطہ سا کچھ سر بسر ہوں سلامتی کے سر میں ہوں رفتار و حادثہ سا کچھ ایک خطرہ ہے آنے جانے میں اس سرا میں ہے دوسرا سا کچھ چاک ادھڑتا ہے خاک اکھڑتی ہے کوئی ہوتا ہے رونما سا کچھ اور تو کچھ نہیں ہے مٹنے کو میں ہی میں ہوں بنا بنا سا کچھ یہ سرکتے ہوئے زمین پہ لوگ یہ گنہ سا کچھ اور گلا سا کچھ وقت پر آگ وقت پر پانی زندگی بھر کا تجربہ سا کچھ جو نہ تیرا ہے اور نہ میرا ہے پھر وہ کیا ہے ترا مرا سا کچھ جب خدا سا کوئی نہیں تو کیوں مسئلہ بن گیا خدا سا کچھ

— شاہین عباس