سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
پرشانت
جاسمین
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
نایاب کا پیش کردہ کلام
ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ
ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ چل تماشا کریں ذرا سا کچھ سامنے سے یہ کائنات ہٹاؤ ہو رہا ہے مغالطہ سا کچھ سر بسر ہوں سلامتی کے سر میں ہوں رفتار و حادثہ سا کچھ ایک خطرہ ہے آنے جانے میں اس سرا میں ہے دوسرا سا کچھ چاک ادھڑتا ہے خاک اکھڑتی ہے کوئی ہوتا ہے رونما سا کچھ اور تو کچھ نہیں ہے مٹنے کو میں ہی میں ہوں بنا بنا سا کچھ یہ سرکتے ہوئے زمین پہ لوگ یہ گنہ سا کچھ اور گلا سا کچھ وقت پر آگ وقت پر پانی زندگی بھر کا تجربہ سا کچھ جو نہ تیرا ہے اور نہ میرا ہے پھر وہ کیا ہے ترا مرا سا کچھ جب خدا سا کوئی نہیں تو کیوں مسئلہ بن گیا خدا سا کچھ