اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم

دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم دل ہی دل میں سہی کچھ خاک اڑانے لگے ہم پہر دو پہر کو وہ عشق تھا اک عمر کا عشق آئنہ دیکھا تو کچھ اتنے پرانے لگے ہم کہیں زنجیر کا یہ حلقہ اضافی ہی نہ ہو دیکھ اس خواب سے آگے نظر آنے لگے ہم مسئلہ باغ محبت کا وہ پہلا سا نہیں گل کھلانے کی جو تھی شرط اٹھانے لگے ہم بہتے بہتے انہیں آنکھوں میں کہیں ڈوب گئے چلئے اچھا ہے کسی طور ٹھکانے لگے ہم بات تصویر نے کہہ دی کہ جو مطلب کی نہ تھی یک بہ یک منظر جاں چھوڑ کے جانے لگے ہم

— شاہین عباس