اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں آتا جاتا آئنوں کو منہ دکھا جاتا ہوں میں اس کے بعد اگلی قیامت کیا ہے کس کو ہوش ہے زخم سہلاتا تھا اور اب داغ دکھلاتا ہوں میں نقش بر دیوار ہوں اور بات کر سکتا نہیں ایسی حالت میں بھی جو کہتا ہوں منواتا ہوں میں خاکساری ہی نہیں یہ غم گساری بھی تو ہے پاؤں رکھتا ہوں جہاں مٹی اٹھا لاتا ہوں میں حرف کے آوازۂ آخر کو کر دیتا ہوں نظم شعر کیا کہتا ہوں خاموشی کو پھیلتا ہوں میں دن ڈھلے کچھ دیر ڈھل جاتا بھی ہوں سورج کے ساتھ شام ہوتے ہی چراغوں سے ابھر آتا ہوں میں

— شاہین عباس