اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں پھر بھی یہ خوف سا ہے کہ سب دیکھتا ہوں میں آنکھیں تمہارے ہاتھ پہ رکھ کر میں چل دیا اب تم پہ منحصر ہے کہ کب دیکھتا ہوں میں آہٹ عقب سے آئی اور آگے نکل گئی جو پہلے دیکھنا تھا وہ اب دیکھتا ہوں میں یہ وقت بھی بتاتا ہے آداب وقت بھی اس ٹوٹتے ستارے کو جب دیکھتا ہوں میں اب یاں سے کون دے مری چشم طلب کو داد جس فاصلے سے باب طلب دیکھتا ہوں میں ان پتلیوں کا قرض چکاتا ہوں کیا کروں بس دل سے دل ملاتا ہوں جب دیکھتا ہوں میں ناکام عشق ہوں سو مرا دیکھنا بھی دیکھ کم دیکھتا ہوں اور غضب دیکھتا ہوں میں

— شاہین عباس