اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا

میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا دیکھتے دیکھتے دل ہو گیا ویران مرا مجھے کھو کر تری آنکھیں نہیں پہلے جیسی تیرے نقصان سے بڑھ کر ہے یہ نقصان مرا یہ سمندر کہ جو اب ملنے ملانے سے گیا گئے وقتوں میں ہوا کرتا تھا مہمان مرا ایک دنیا میں سمٹ آئے یہ ممکن ہی نہیں اتنی دنیاؤں میں بکھرا ہوا سامان مرا میں نے اس طرح بھی اس شخص کا رکھا ہے خیال کہیں جاتا ہی نہیں اپنے سوا دھیان مرا مجھے آغاز میں کچھ ایسے اشارے ملے تھے میں نہ ہوتا تو کہاں جاتا بیابان مرا میں نے دو ہاتھوں کا سایہ سا بنایا جن پر ان درختوں نے اٹھایا نہیں احسان مرا میری چپ شور بنی شور سے کچھ اور بنی ایک اک کر کے ہوا ختم ہر امکان مرا اس محبت پہ میں اتنا ہی کہوں گا شاہینؔ اک ستارے نے سفر کر دیا آسان مرا

— شاہین عباس