سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی
روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی خاک دریافت مری خاک اڑانے سے ہوئی رنگ پھر آئے نہیں موج میں پہلے کی طرح ایسی تصویر مؤخر ترے جانے سے ہوئی تو نے چپ سادھ لی موضوع محبت دے کر گفتگو تجھ سے جو ہونی تھی زمانے سے ہوئی تھا مگر ایسا اکیلا میں کہاں تھا پہلے میری تنہائی مکمل ترے آنے سے ہوئی اپنے بارے میں وہ اک بات جو ہوتی نہیں تھی تیری آواز میں آواز ملانے سے ہوئی
شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی
شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی میرے ماتھے پہ ستارہ ابھر آیا ہے کوئی جیسے اس قافلۂ نم سے کوئی رہ گیا ہو رنج کرتا ہوا دریا ادھر آیا ہے کوئی میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کوئی اپنے مہمان کی خاموشی بھی اب توڑ ذرا دیکھ دنیا تری آواز پر آیا ہے کوئی یہ بتانا ذرا مشکل ہے کہ دیکھا کیوں ہے میں نے دیکھا ہے جہاں تک نظر آیا ہے کوئی میں بھی خوش ہوں مرے شعلے میں تماشہ تو ہوا روشنی دیکھ کے مجھ میں اتر آیا ہے کوئی