اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی

روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی خاک دریافت مری خاک اڑانے سے ہوئی رنگ پھر آئے نہیں موج میں پہلے کی طرح ایسی تصویر مؤخر ترے جانے سے ہوئی تو نے چپ سادھ لی موضوع محبت دے کر گفتگو تجھ سے جو ہونی تھی زمانے سے ہوئی تھا مگر ایسا اکیلا میں کہاں تھا پہلے میری تنہائی مکمل ترے آنے سے ہوئی اپنے بارے میں وہ اک بات جو ہوتی نہیں تھی تیری آواز میں آواز ملانے سے ہوئی

— شاہین عباس

شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی

شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی میرے ماتھے پہ ستارہ ابھر آیا ہے کوئی جیسے اس قافلۂ نم سے کوئی رہ گیا ہو رنج کرتا ہوا دریا ادھر آیا ہے کوئی میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کوئی اپنے مہمان کی خاموشی بھی اب توڑ ذرا دیکھ دنیا تری آواز پر آیا ہے کوئی یہ بتانا ذرا مشکل ہے کہ دیکھا کیوں ہے میں نے دیکھا ہے جہاں تک نظر آیا ہے کوئی میں بھی خوش ہوں مرے شعلے میں تماشہ تو ہوا روشنی دیکھ کے مجھ میں اتر آیا ہے کوئی

— شاہین عباس