اسعد بدایونی

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس

23 April 2026

12سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر

در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر ہم عجب لہر میں ہیں اپنے نئے گھر آ کر جسے جانا ہی نہیں اپنے کناروں سے جدا اسے دیکھا بھی نہیں موج سے باہر آ کر آتش غم پہ نظر کی ہے کچھ ایسے کہ یہ آنچ بات کر سکتی ہے اب مرے برابر آ کر تو نے کس حرف کے آہنگ میں ڈھالا تھا مجھے سانس بھی ٹوٹ رہا ہے سر محضر آ کر اسے دیکھا تھا خط خواب کے اس پار کبھی یہ ستارہ جو گرا ہے مرے اندر آ کر اک صدا کوہ ندا سے کسی اپنے کی صدا رونے لگ جاتی ہے اس دشت میں اکثر آ کر شاخ تا شاخ عجب عالم وحشت ہے ابھی طائر جاں کبھی ٹھہرا تھا مرے گھر آ کر

— شاہین عباس