سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
پرشانت
جاسمین
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر
در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر ہم عجب لہر میں ہیں اپنے نئے گھر آ کر جسے جانا ہی نہیں اپنے کناروں سے جدا اسے دیکھا بھی نہیں موج سے باہر آ کر آتش غم پہ نظر کی ہے کچھ ایسے کہ یہ آنچ بات کر سکتی ہے اب مرے برابر آ کر تو نے کس حرف کے آہنگ میں ڈھالا تھا مجھے سانس بھی ٹوٹ رہا ہے سر محضر آ کر اسے دیکھا تھا خط خواب کے اس پار کبھی یہ ستارہ جو گرا ہے مرے اندر آ کر اک صدا کوہ ندا سے کسی اپنے کی صدا رونے لگ جاتی ہے اس دشت میں اکثر آ کر شاخ تا شاخ عجب عالم وحشت ہے ابھی طائر جاں کبھی ٹھہرا تھا مرے گھر آ کر