مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے اس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اس سے ہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے صوفی کا خدا اور تھا شاعر کا خدا اور تم ساتھ رہے ہو تو کرامات رہی ہے اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے ہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ہے ہم میں تو یہ حیرانی و شوریدگئ عشق بچپن ہی سے منجملۂ عادات رہی ہے اس سے بھی تو کچھ ربط جھلکتا ہے کہ وہ آنکھ بس ہم پہ عنایات میں محتاط رہی ہے الزام کسے دیں کہ ترے پیار میں ہم پر جو کچھ بھی رہی حسب روایات رہی ہے کچھ میرؔ کے حالات سے حاصل کرو عبرت لے دے کے اب اک عزت سادات رہی ہے

— مصطفی زیدی

سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا

سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا یہ سر جھکتے ہیں یا دیوار زنداں دیکھتے رہنا ہر اک اہل لہو نے بازیٔ ایماں لگا دی ہے جو اب کی بار ہوگا وہ چراغاں دیکھتے رہنا ادھر سے مدعی گزریں گے ایقان شریعت کے نظر آ جائے شاید کوئی انساں دیکھتے رہنا اسے تم لوگ کیا سمجھو گے جیسا ہم سمجھتے ہیں مگر پھر بھی کریں گے اس سے پیماں دیکھتے رہنا سمجھ میں آ گیا تیری نگاہوں کے الجھنے پر بھری محفل میں سب کا ہم کو حیراں دیکھتے رہنا ہزاروں مہرباں اس راستے پر ساتھ آئیں گے میاں یہ دل ہے یہ جیب و گریباں دیکھتے رہنا دبا رکھو یہ لہریں ایک دن آہستہ آہستہ یہی بن جائیں گی تمہید طوفاں دیکھتے رہنا

— مصطفی زیدی