سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے
سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے اس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اس سے ہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے صوفی کا خدا اور تھا شاعر کا خدا اور تم ساتھ رہے ہو تو کرامات رہی ہے اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے ہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ہے ہم میں تو یہ حیرانی و شوریدگئ عشق بچپن ہی سے منجملۂ عادات رہی ہے اس سے بھی تو کچھ ربط جھلکتا ہے کہ وہ آنکھ بس ہم پہ عنایات میں محتاط رہی ہے الزام کسے دیں کہ ترے پیار میں ہم پر جو کچھ بھی رہی حسب روایات رہی ہے کچھ میرؔ کے حالات سے حاصل کرو عبرت لے دے کے اب اک عزت سادات رہی ہے
سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا
سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا یہ سر جھکتے ہیں یا دیوار زنداں دیکھتے رہنا ہر اک اہل لہو نے بازیٔ ایماں لگا دی ہے جو اب کی بار ہوگا وہ چراغاں دیکھتے رہنا ادھر سے مدعی گزریں گے ایقان شریعت کے نظر آ جائے شاید کوئی انساں دیکھتے رہنا اسے تم لوگ کیا سمجھو گے جیسا ہم سمجھتے ہیں مگر پھر بھی کریں گے اس سے پیماں دیکھتے رہنا سمجھ میں آ گیا تیری نگاہوں کے الجھنے پر بھری محفل میں سب کا ہم کو حیراں دیکھتے رہنا ہزاروں مہرباں اس راستے پر ساتھ آئیں گے میاں یہ دل ہے یہ جیب و گریباں دیکھتے رہنا دبا رکھو یہ لہریں ایک دن آہستہ آہستہ یہی بن جائیں گی تمہید طوفاں دیکھتے رہنا