مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی مدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی میرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تک میری فریاد کی قسمت کہ تجھے چھو آئی اپنی آنکھوں سے لگاتی ہیں زمانے کے قدم شہر کی راہ گزاروں میں مری خو آئی ہاں نمازوں کا اثر دیکھ لیا پچھلی رات میں ادھر گھر سے گیا تھا کہ ادھر تو آئی مژدہ اے دل کسی پہلو تو قرار آ ہی گیا منزل دار کٹی ساعت گیسو آئی

— مصطفی زیدی

اس سے ملنا تو اس طرح کہنا

س سے ملنا تو اس طرح کہنا:۔ تجھ س پہلے مری نگاہوں میں کوئی روپ اس طرح نہ اترا تھا تجھ سے آباد ہے خرابئہ دل ورنہ میں کس قدر اکیلا تھا تیرے ہونٹوں پہ کوہسار کی اوس تیرے چہرے پہ دھوپ کا جادو تیری سانسوں کی تھرتھراہٹ میں کونپلوں کے کنوار کی خوشبو وہ کہے گی کہ ان خطابوں سے اور کس کس پہ جال ڈالے ہیں تم یہ کہنا کہ پیش ساغر جم اور سب مٹیوں کے پیالے ہیں ایسا کرنا کہ احتیاط کہ ساتھ اس کہ ہاتھوں سے ہات ٹکرانا اور اگر ہو سکے تو آنکھوں میں صِرف دو چار اشک بھر لانا عشق میں اے مبصّرین کرام یہ ہی تیکنیک کام آتی ہے اور یہ ہی لے کے ڈوب جاتی ہے

— مصطفی زیدی