مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

ایک شام

یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں اب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی موم بتی کی روشنی میں نظر حافظے کے ورق الٹتی تھی ریت کے سوگوار ٹیلوں پر چاندنی رات بھر بھٹکتی تھی آج لیکن تھکے ہوئے دل پر جسم کا تار تار بھاری ہے شام کی دم بخود ہواؤں پر صبح کا انتظار بھاری ہے مقبروں سے اٹھی ہوئی آندھی ٹہنیوں سے الجھ کے چلتی ہے خشک پلکوں پہ آنسوؤں کی امید پے بہ پے کروٹیں بدلتی ہے ایک اک عکس سانس لیتا ہے ایک اک یاد آنکھ ملتی ہے جیسے صحرا میں سر جھکائے ہوئے حاجیوں کی قطار چلتی ہے زرد چنگاریوں کے دامن میں یوں سلگتا ہے سرد آتش دان جیسے بچوں کی بھوک کے آگے ایک نادار باپ کا ایمان دم بخود خامشی میں دھیرے سے زرد پتے قدم اٹھاتے ہیں یاد کے کارواں اندھیرے میں خواب کی طرح سرسراتے ہیں کھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرے اپنی آہٹ سے کانپ جاتے ہیں دل کی قربان گاہ کے آگے ایک ٹوٹا ہوا دیا بھی نہیں کسی پیپل کے نرم سائے میں کوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں روح کے کاسۂ گدائی کو چار ٹکڑوں کا آسرا بھی نہیں لمبی چوڑی سڑک کے دامن پر قمقمے سہمے سہمے جلتے ہیں جیسے اکثر بڑے گھرانوں میں فاقہ کش رشتہ دار پلتے ہیں سوچتا ہوں کہ اس دیار سے دور ایک ایسا بھی دیس ہے جس کی رات تاروں میں سج کے آئے گی صبح ہوگی تو گھر کے گوشوں میں تیری معصوم مسکراہٹ کی نرم سی دھوپ پھیل جائے گی

— مصطفی زیدی

دوراہا

جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوت آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے جو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہے ان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگی سوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگر جاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاش اس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہ کسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گا ایک تارا نظر آئے گا کسی چلمن میں ایک آنسو کسی بستر پہ بکھر جائے گا ہاں مگر تیرا یہ بیمار کدھر جائے گا میں نے اک نظم میں لکھا تھا کہ اے روح وفا چارہ سازی ترے ناخن کی رہین منت غم گساری تری پلکوں کی روایات میں ہے ایک چھوٹی ہی سی امید طرب زار سہی ایک جگنو کا اجالا مری برسات میں ہے لذت عارض و لب ساعت تکمیل وصال میری تقدیر میں ہے اور تری بات میں ہے دیر سے، کعبے سے، ادراک سے بھی اکتا کر آج تک دل کو اجالے کی طلب ہوتی ہے ایک دن آئے گا جب اور بھی عریاں ہو کر آدمی جینے کو تھوڑی سی ضیا مانگے گا گیت کے، پھول کے، اشعار کے، افسانوں کے آج تک ہم نے بنائے ہیں کھلونے کتنے یہ کھلونے بھی نہ ہوتے تو ہمارا بچپن سوچتا ہوں کہ گزرتا تو گزرتا کیسے آدمی زیست کے سیلاب سے لڑتے لڑتے بیچ منجدھار میں آتا تو ابھرتا کیسے دیر سے روح پہ اک خواب گراں طاری ہے آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے آج پھر دوش تمنا پہ ہے دل کا تابوت جاگ اے نرم نگاہی کے مسیحانہ سکوت ورنہ انسان کی فطرت کا تلون مت پوچھ اس سن و سال کا مغرور لڑکپن مت پوچھ آدمی تیری اس افتاد سے بد دل ہو کر اور دو چار خداؤں کے علم پوجے گا اور اک روز اس انداز سے بھی اکتا کر اپنے بے نام خیالوں کے صنم پوجے گا

— مصطفی زیدی