سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
ایک شام
یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں اب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی موم بتی کی روشنی میں نظر حافظے کے ورق الٹتی تھی ریت کے سوگوار ٹیلوں پر چاندنی رات بھر بھٹکتی تھی آج لیکن تھکے ہوئے دل پر جسم کا تار تار بھاری ہے شام کی دم بخود ہواؤں پر صبح کا انتظار بھاری ہے مقبروں سے اٹھی ہوئی آندھی ٹہنیوں سے الجھ کے چلتی ہے خشک پلکوں پہ آنسوؤں کی امید پے بہ پے کروٹیں بدلتی ہے ایک اک عکس سانس لیتا ہے ایک اک یاد آنکھ ملتی ہے جیسے صحرا میں سر جھکائے ہوئے حاجیوں کی قطار چلتی ہے زرد چنگاریوں کے دامن میں یوں سلگتا ہے سرد آتش دان جیسے بچوں کی بھوک کے آگے ایک نادار باپ کا ایمان دم بخود خامشی میں دھیرے سے زرد پتے قدم اٹھاتے ہیں یاد کے کارواں اندھیرے میں خواب کی طرح سرسراتے ہیں کھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرے اپنی آہٹ سے کانپ جاتے ہیں دل کی قربان گاہ کے آگے ایک ٹوٹا ہوا دیا بھی نہیں کسی پیپل کے نرم سائے میں کوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں روح کے کاسۂ گدائی کو چار ٹکڑوں کا آسرا بھی نہیں لمبی چوڑی سڑک کے دامن پر قمقمے سہمے سہمے جلتے ہیں جیسے اکثر بڑے گھرانوں میں فاقہ کش رشتہ دار پلتے ہیں سوچتا ہوں کہ اس دیار سے دور ایک ایسا بھی دیس ہے جس کی رات تاروں میں سج کے آئے گی صبح ہوگی تو گھر کے گوشوں میں تیری معصوم مسکراہٹ کی نرم سی دھوپ پھیل جائے گی
دوراہا
جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوت آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے جو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہے ان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگی سوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگر جاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاش اس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہ کسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گا ایک تارا نظر آئے گا کسی چلمن میں ایک آنسو کسی بستر پہ بکھر جائے گا ہاں مگر تیرا یہ بیمار کدھر جائے گا میں نے اک نظم میں لکھا تھا کہ اے روح وفا چارہ سازی ترے ناخن کی رہین منت غم گساری تری پلکوں کی روایات میں ہے ایک چھوٹی ہی سی امید طرب زار سہی ایک جگنو کا اجالا مری برسات میں ہے لذت عارض و لب ساعت تکمیل وصال میری تقدیر میں ہے اور تری بات میں ہے دیر سے، کعبے سے، ادراک سے بھی اکتا کر آج تک دل کو اجالے کی طلب ہوتی ہے ایک دن آئے گا جب اور بھی عریاں ہو کر آدمی جینے کو تھوڑی سی ضیا مانگے گا گیت کے، پھول کے، اشعار کے، افسانوں کے آج تک ہم نے بنائے ہیں کھلونے کتنے یہ کھلونے بھی نہ ہوتے تو ہمارا بچپن سوچتا ہوں کہ گزرتا تو گزرتا کیسے آدمی زیست کے سیلاب سے لڑتے لڑتے بیچ منجدھار میں آتا تو ابھرتا کیسے دیر سے روح پہ اک خواب گراں طاری ہے آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے آج پھر دوش تمنا پہ ہے دل کا تابوت جاگ اے نرم نگاہی کے مسیحانہ سکوت ورنہ انسان کی فطرت کا تلون مت پوچھ اس سن و سال کا مغرور لڑکپن مت پوچھ آدمی تیری اس افتاد سے بد دل ہو کر اور دو چار خداؤں کے علم پوجے گا اور اک روز اس انداز سے بھی اکتا کر اپنے بے نام خیالوں کے صنم پوجے گا