مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح میرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی مانند اوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح اے مجھے چھوڑ کے طوفان میں جانے والی دوست ہوتا ہے تلاطم میں سفینے کی طرح اے مرے غم کو زمانے سے بتانے والی میں ترا راز چھپاتا ہوں دفینے کی طرح تیرا وعدہ تھا کہ اس ماہ ضرور آئے گی اب تو ہر روز گزرتا ہے مہینے کی طرح

— مصطفی زیدی

فگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرے

فِگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرے​ کہیں تو مِل مجھے ،اے گمشدہ خدا میرے​ ​میں شمع کُشتہ بھی تھا،صبح کی نوید بھی تھا​ شکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے​ ​وہ دردِ دل میں ملا،سوزِجسم و جا ں میں ملا​ کہاں کہاں اسے ڈھونڈا جو ساتھ تھا میرے​ ​ہر ایک شعر میں،میں اُس کا عکس دیکھتا ہوں​ مری زباں سے جو اشعار لے گیا میرے​ ​سفر بھی میں تھا،مسا فر بھی تھا،راہ بھی میں​ کوئی نہیں تھا کئی کوس ما سوا میرے​ ​وفا کا نام بھی زندہ ہے،میں بھی زندہ ہوں​ اب اپنا حال سنا ،مجھ کو بے وفا میرے​ ​وہ چارہ گر بھی اُسے دیر تک سمجھ نہ سکا​ جگر کا زخم تھا ،نغموں میں ڈھل گیا میرے​

— مصطفی زیدی