مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

روح کی موت

چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میں وہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا یہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکے یہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا لہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تک دل و دماغ کی بے چارگی نہیں جاتی جنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکن مرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی نہ جانے کس لئے اس انتہائے حدت پر مرا دماغ سلگتا ہے جل نہیں جاتا نہ جانے کیوں ہر اک امید لوٹ جانے پر مرے خیال کا لاوا پگھل نہیں جاتا نہ جانے کون سے ہونٹوں کا آسرا پا کر تمہارے ہونٹ مری تشنگی کو بھول گئے وہی اصول جو محکم تھے نرم سائے میں ذرا سی دھوپ میں نکلے تو جھول جھول گئے

— مصطفی زیدی