سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
ابو لقمان
ارمان
ایم سعید
جگنو
راجا اکرام قمر
سجاد رضا
سحر
سید جینٹلمین
طارق
طاہر امین
کراؤن
کریسنٹ
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
آزاد کا پیش کردہ کلام
روح کی موت
چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میں وہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا یہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکے یہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا لہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تک دل و دماغ کی بے چارگی نہیں جاتی جنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکن مرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی نہ جانے کس لئے اس انتہائے حدت پر مرا دماغ سلگتا ہے جل نہیں جاتا نہ جانے کیوں ہر اک امید لوٹ جانے پر مرے خیال کا لاوا پگھل نہیں جاتا نہ جانے کون سے ہونٹوں کا آسرا پا کر تمہارے ہونٹ مری تشنگی کو بھول گئے وہی اصول جو محکم تھے نرم سائے میں ذرا سی دھوپ میں نکلے تو جھول جھول گئے