مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں پیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ

— مصطفی زیدی