سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
ابو لقمان
ارمان
ایم سعید
جگنو
راجا اکرام قمر
سجاد رضا
سحر
سید جینٹلمین
طارق
طاہر امین
کراؤن
کریسنٹ
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
نایاب کا پیش کردہ کلام
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں پیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ