مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا دل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا قدموں کو شوق آبلہ پائی تو مل گیا لیکن بہ ظرف وسعت صحرا نہیں ملا کنعاں میں بھی نصیب ہوئی خود دریدگی چاک قبا کو دست زلیخا نہیں ملا مہر و وفا کے دشت نوردو جواب دو تم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا

— مصطفی زیدی

ناشناس

کتنے لہجوں کی کٹاریں مری گردن پہ چلیں کتنے الفاظ کا سیسہ مرے کانوں میں گھلا جس میں اک سمت دھندلکا تھا اور اک سمت غبار اس ترازو پہ مرے درد کا سامان تلا کم نگاہی نے بصیرت پہ اٹھائے نیزے وہم کی نہر میں پیراہن افکار دھلا قحط ایسا تھا کہ برپا نہ ہوئی مجلس عشق حبس ایسا تھا کہ تحقیق کا پرچم نہ کھلا کون سے دیس میں رہتے ہیں وہ مونس جن کی روز اک بات سناتے تھے سنانے والے ٹھوکروں میں ہے متاع دل ویراں کب سے کیا ہوئے غم کو سر آنکھوں پہ بٹھانے والے رات سنسان ہے بے نور ستارے مدھم کیا ہوئے راہ میں پلکوں کو بچھانے والے اب تو وہ دن بھی نہیں ہیں کہ مرے نام کے ساتھ آپ کا نام بتاتے تھے زمانے والے

— مصطفی زیدی