سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا دل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا قدموں کو شوق آبلہ پائی تو مل گیا لیکن بہ ظرف وسعت صحرا نہیں ملا کنعاں میں بھی نصیب ہوئی خود دریدگی چاک قبا کو دست زلیخا نہیں ملا مہر و وفا کے دشت نوردو جواب دو تم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا
ناشناس
کتنے لہجوں کی کٹاریں مری گردن پہ چلیں کتنے الفاظ کا سیسہ مرے کانوں میں گھلا جس میں اک سمت دھندلکا تھا اور اک سمت غبار اس ترازو پہ مرے درد کا سامان تلا کم نگاہی نے بصیرت پہ اٹھائے نیزے وہم کی نہر میں پیراہن افکار دھلا قحط ایسا تھا کہ برپا نہ ہوئی مجلس عشق حبس ایسا تھا کہ تحقیق کا پرچم نہ کھلا کون سے دیس میں رہتے ہیں وہ مونس جن کی روز اک بات سناتے تھے سنانے والے ٹھوکروں میں ہے متاع دل ویراں کب سے کیا ہوئے غم کو سر آنکھوں پہ بٹھانے والے رات سنسان ہے بے نور ستارے مدھم کیا ہوئے راہ میں پلکوں کو بچھانے والے اب تو وہ دن بھی نہیں ہیں کہ مرے نام کے ساتھ آپ کا نام بتاتے تھے زمانے والے