سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
آخری بار ملو
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل راکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں چاک وعدہ نہ سلے زخم تمنا نہ کھلے سانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں آنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں جس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے اب نہ ہیجان و جنوں کا نہ حکایات کا وقت اب نہ تجدید وفا کا نہ شکایات کا وقت لٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے آج تک تم سے رگ جاں کے کئی رشتے تھے کل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار ملو ماتمی ہیں دم رخصت در و دیوار ملو پھر نہ ہم ہوں گے نہ اقرار نہ انکار ملو آخری بار ملو
تجدید
اُس کی بے باکیوں میں غصّہ تھا اس کے غصّے میں پیار تھا ساتھی آج اس نوبہار کے رُخ پر کس غضب کا نکھار تھا ساتھی ایک سرکش امنگ سینے میں اس طرح اپنا سر اٹھاتی تھی اس کے نم عارضوں کے سائے میں اس کی سانسوں کی آنچ آتی تھی اس کا شکوہ کہ شعر لکھ لکھ کر آپ نے کر دیا مجھے بدنام ایک افسانہ ہے یہ سوز و گداز ایک وقت کسک ہے یہ کہرام میرا کہنا کہ "تم نے دیکھ لیا یہ فسانہ اٹل حقیقت تھا" بحث کی بے پناہ وسعت میں میں نے اس ماہ رخ کو جیت لیا نرم انگڑائیاں بکھرتی ہیں آج چھیڑا ہے وقت نے وہ راگ ساری دنیا میں دھوپ نکلی ہے جاگ اے سرزمینِ سنگم جاگ