مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

آخری بار ملو

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل راکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں چاک وعدہ نہ سلے زخم تمنا نہ کھلے سانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں آنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں جس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے اب نہ ہیجان و جنوں کا نہ حکایات کا وقت اب نہ تجدید وفا کا نہ شکایات کا وقت لٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے آج تک تم سے رگ جاں کے کئی رشتے تھے کل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار ملو ماتمی ہیں دم رخصت در و دیوار ملو پھر نہ ہم ہوں گے نہ اقرار نہ انکار ملو آخری بار ملو

— مصطفی زیدی

تجدید

اُس کی بے باکیوں میں غصّہ تھا اس کے غصّے میں پیار تھا ساتھی آج اس نوبہار کے رُخ پر کس غضب کا نکھار تھا ساتھی ایک سرکش امنگ سینے میں اس طرح اپنا سر اٹھاتی تھی اس کے نم عارضوں کے سائے میں اس کی سانسوں کی آنچ آتی تھی اس کا شکوہ کہ شعر لکھ لکھ کر آپ نے کر دیا مجھے بدنام ایک افسانہ ہے یہ سوز و گداز ایک وقت کسک ہے یہ کہرام میرا کہنا کہ "تم نے دیکھ لیا یہ فسانہ اٹل حقیقت تھا" بحث کی بے پناہ وسعت میں میں نے اس ماہ رخ کو جیت لیا نرم انگڑائیاں بکھرتی ہیں آج چھیڑا ہے وقت نے وہ راگ ساری دنیا میں دھوپ نکلی ہے جاگ اے سرزمینِ سنگم جاگ

— مصطفی زیدی