مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

سفر آخر شب

بہت قریب سے آئی ہوائے دامن گل کسی کے روئے بہاریں نے حال دل پوچھا کہ اے فراق کی راتیں گزارنے والو خمار آخر شب کا مزاج کیسا تھا تمہارے ساتھ رہے کون کون سے تارے سیاہ رات میں کس کس نے تم کو چھوڑ دیا بچھڑ گئے کہ دغا دے گئے شریک سفر الجھ گیا کہ وفا کا طلسم ٹوٹ گیا نصیب ہو گیا کس کس کو قرب سلطانی مزاج کس کا یہاں تک قلندرانہ رہا فگار ہو گئے کانٹوں سے پیرہن کتنے زمیں کو رشک چمن کر گیا لہو کس کا سنائیں یا نہ سنائیں حکایت شب غم کہ حرف حرف صحیفہ ہے، اشک اشک قلم کن آنسوؤں سے بتائیں کہ حال کیسا ہے بس اس قدر ہے کہ جیسے ہیں سرفراز ہیں ہم ستیزہ کار رہے ہیں جہاں بھی الجھے ہیں شعار راہ زناں سے مسافروں کے قدم ہزار دشت پڑے، لاکھ آفتاب ابھرے جبیں پہ گرد، پلک پر نمی نہیں آئی کہاں کہاں نہ لٹا کارواں فقیروں کا متاع درد میں کوئی کمی نہیں آئی

— مصطفی زیدی

دیدنی

میری پلکوں کو مت دیکھو ان کا اٹھنا ان کا جھپکنا جسم کا نا محسوس عمل ہے میری آنکھوں کو مت دیکھو ان کی اوٹ میں شام غریباں ان کی آڑ میں دشت ازل ہے میرے چہرے کو مت دیکھو اس میں کوئی وعدۂ فردا اس میں کوئی آج نہ کل ہے اب اس دریا تک مت آؤ جس کی لہریں ٹوٹ چکی ہیں اس سینے سے لو نہ لگاؤ جس کی نبضیں چھوٹ چکی ہیں اب میرے قاتل کو چاہو میرا قاتل مرہم مرہم دریا دریا ساحل ساحل قاضئ شہر کا ماتھا چومو جس کے قلم میں زہر ہلاہل جس کے سخن میں لحن ہلاہل اب اس رقص کی دھن پہ ناچو جس کی گیت پہ لٹ گیا قاضی جس کی لے پر بک گیا قاتل

— مصطفی زیدی

میرے محبوب وطن کی گلیو!

میرے محبوب وطن کی گلیو! تم کو اور اپنے دوستوں کو سلام اپنے زخمی شباب کو تسلیم اپنے بچپن کے قہقہوں کو سلام عمر بھر کے لیے تمھارے پاس رہ گئی ہے شگفتگی میری آخری رات کے اداس دیو! یاد ہے تم کو بے بسی میری؟ یاد ہے تم کو جب بھلائے تھے عمر بھر کے کیے ہوئے وعدے رسم و مذہب کی اک بچارن نے ایک چاندی کے دیوتا کے لیے جانے اس کارگاہ ہستی میں اس کو وہ دیوتا ملا کہ نہیں میری کلیوں کا خون پی کے بھی اس کا اپنا کنول کھلا کہ نہیں سنا آج کل اس کے دامن میں پیار کے رنگ ہیں کہ پیسے ہیں تم کو معلوم ہو تو بتلانا اس کے آنچل کے رنگ کیسے ہیں مجھ کو آواز دو کہ صبح کی اوس کیا مجھے ابھی یاد کرتی ہے ؟ میرے گھر کی ادس چوکھٹ پر کیا کبھی چاندنی اتری ہے ؟

— مصطفی زیدی

شہناز

جس طرح ترکِ تعلُّق پہ اِصرار اب کے ایسی شدّت تو مرے عہد ِ وفا میں بھی نہ تھی میں نے تو دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہر جس کی جراؑت صفِ تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی تُونے جس لہر کی صورت سے مجھے چاہا تھا ساز میں بھی نہ تھی وہ بات ، صبا میں بھی نہ تھی اور اب یوں ہے کہ جیسے کبھی رسم ِ اخلاص مہہ نشینوں میں تو کیا ، ہم فقرا میں بھی نہ تھی بےوفائی کی یہ مشترکہ نئی آسائش دلِ پُرخون میں بھی اور رنگِ حنا میں بھی نہ تھی نہ تو شرمندہ ہے دل اور نہ حنا خوار اب کے جس طرح ترکِ تعلُّق پہ ہے اصرار اب کے

— مصطفی زیدی