سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
سفر آخر شب
بہت قریب سے آئی ہوائے دامن گل کسی کے روئے بہاریں نے حال دل پوچھا کہ اے فراق کی راتیں گزارنے والو خمار آخر شب کا مزاج کیسا تھا تمہارے ساتھ رہے کون کون سے تارے سیاہ رات میں کس کس نے تم کو چھوڑ دیا بچھڑ گئے کہ دغا دے گئے شریک سفر الجھ گیا کہ وفا کا طلسم ٹوٹ گیا نصیب ہو گیا کس کس کو قرب سلطانی مزاج کس کا یہاں تک قلندرانہ رہا فگار ہو گئے کانٹوں سے پیرہن کتنے زمیں کو رشک چمن کر گیا لہو کس کا سنائیں یا نہ سنائیں حکایت شب غم کہ حرف حرف صحیفہ ہے، اشک اشک قلم کن آنسوؤں سے بتائیں کہ حال کیسا ہے بس اس قدر ہے کہ جیسے ہیں سرفراز ہیں ہم ستیزہ کار رہے ہیں جہاں بھی الجھے ہیں شعار راہ زناں سے مسافروں کے قدم ہزار دشت پڑے، لاکھ آفتاب ابھرے جبیں پہ گرد، پلک پر نمی نہیں آئی کہاں کہاں نہ لٹا کارواں فقیروں کا متاع درد میں کوئی کمی نہیں آئی
دیدنی
میری پلکوں کو مت دیکھو ان کا اٹھنا ان کا جھپکنا جسم کا نا محسوس عمل ہے میری آنکھوں کو مت دیکھو ان کی اوٹ میں شام غریباں ان کی آڑ میں دشت ازل ہے میرے چہرے کو مت دیکھو اس میں کوئی وعدۂ فردا اس میں کوئی آج نہ کل ہے اب اس دریا تک مت آؤ جس کی لہریں ٹوٹ چکی ہیں اس سینے سے لو نہ لگاؤ جس کی نبضیں چھوٹ چکی ہیں اب میرے قاتل کو چاہو میرا قاتل مرہم مرہم دریا دریا ساحل ساحل قاضئ شہر کا ماتھا چومو جس کے قلم میں زہر ہلاہل جس کے سخن میں لحن ہلاہل اب اس رقص کی دھن پہ ناچو جس کی گیت پہ لٹ گیا قاضی جس کی لے پر بک گیا قاتل
میرے محبوب وطن کی گلیو!
میرے محبوب وطن کی گلیو! تم کو اور اپنے دوستوں کو سلام اپنے زخمی شباب کو تسلیم اپنے بچپن کے قہقہوں کو سلام عمر بھر کے لیے تمھارے پاس رہ گئی ہے شگفتگی میری آخری رات کے اداس دیو! یاد ہے تم کو بے بسی میری؟ یاد ہے تم کو جب بھلائے تھے عمر بھر کے کیے ہوئے وعدے رسم و مذہب کی اک بچارن نے ایک چاندی کے دیوتا کے لیے جانے اس کارگاہ ہستی میں اس کو وہ دیوتا ملا کہ نہیں میری کلیوں کا خون پی کے بھی اس کا اپنا کنول کھلا کہ نہیں سنا آج کل اس کے دامن میں پیار کے رنگ ہیں کہ پیسے ہیں تم کو معلوم ہو تو بتلانا اس کے آنچل کے رنگ کیسے ہیں مجھ کو آواز دو کہ صبح کی اوس کیا مجھے ابھی یاد کرتی ہے ؟ میرے گھر کی ادس چوکھٹ پر کیا کبھی چاندنی اتری ہے ؟
شہناز
جس طرح ترکِ تعلُّق پہ اِصرار اب کے ایسی شدّت تو مرے عہد ِ وفا میں بھی نہ تھی میں نے تو دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہر جس کی جراؑت صفِ تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی تُونے جس لہر کی صورت سے مجھے چاہا تھا ساز میں بھی نہ تھی وہ بات ، صبا میں بھی نہ تھی اور اب یوں ہے کہ جیسے کبھی رسم ِ اخلاص مہہ نشینوں میں تو کیا ، ہم فقرا میں بھی نہ تھی بےوفائی کی یہ مشترکہ نئی آسائش دلِ پُرخون میں بھی اور رنگِ حنا میں بھی نہ تھی نہ تو شرمندہ ہے دل اور نہ حنا خوار اب کے جس طرح ترکِ تعلُّق پہ ہے اصرار اب کے