مصطفی زیدی

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)

10 December 2025

18سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

رات سنسان ہے

میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموش اپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے میرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کو سالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے جہد ہستی کی کڑی دھوپ میں تھک جانے پر جس کی آغوش نے بخشا ہے مجھے ماں کا خلوص جس کی خاموش عنایت کی سہانی یادیں لوریاں بن کے مرے دل میں سما جاتی ہیں میری تنہائی کے احساس کو زائل کرنے جس کی دیواریں مرے پاس چلی آتی ہیں سامنے طاق پہ رکھی ہوئی دو تصویریں اکثر اوقات مجھے پیار سے یوں تکتی ہیں جیسے میں دور کسی دیس کا شہزادہ ہوں میرا کمرہ مرے ماضی کا حقیقی مونس آج ہر فکر ہر احساس سے بیگانہ ہے اپنے ہم راز کواڑوں کے احاطے کے عوض آج میں جیسے مزاروں پہ چلا آیا ہوں گرد آلودہ کلنڈر پہ اجنتا کے نقوش میرے چہرے کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیں جیسے اک لاش کی پھیلی ہوئی بے بس آنکھیں اپنے مجبور عزیزوں کو تکا کرتی ہیں یہ کتابیں بھی مرا ساتھ نہیں دیتیں آج کیٹسؔ کی نظم ارسطوؔ کے حکیمانہ قول سنگ مرمر کی عمارت کی طرح ساکت ہیں تو ہی کچھ بات کر اے میرے دھڑکتے ہوئے دل تو ہی اک میرا سہارا ہے مرا مونس ہے تو ہی اس سرد اندھیرے میں چراغاں کر دے لکشمی دیوی تو مری بات نہیں سن سکتیں مجھ کو معلوم ہے کیا بیت چکی ہے تجھ پر میرے چہرے کے سلگتے ہوئے زخموں کو بھی دیکھ میری آنکھوں پہ مری فکر پہ پابندی ہے میں اسے چاہوں بھی تو یاد نہیں کر سکتا تو اسے کھو کے مچل سکتا ہے رو سکتا ہے اور میں لٹ کے بھی فریاد نہیں کر سکتا اسی آئینے نے دیکھے ہیں ہمارے جھگڑے یہی زینہ ہے جہاں میں نے اسے چوما تھا ان قمیضوں میں ان الجھے ہوئے رومالوں میں اس کے بالوں کی مہک آج بھی آسودہ ہے جو کبھی میری تھی انکار پہ بھی میری تھی اب فقط بزم تصور میں نظر آتی ہے رات بھر جاگ کے لکھی ہوئی تحریروں سے اب بھی ان آنکھوں کی تصویر ابھر آتی ہے چاندنی کھل کے نکھر آئی ہے دروازے پر اوس سے بھیگتے جاتے ہیں پرانے گملے کس قدر نرم ہے کلیوں کا سہانا سایہ جیسے وہ ہونٹ جنہیں پا کے بھی میں پا نہ سکا اے تڑپتے ہوئے دل اور سنبھل اور سنبھل یہ تری چاپ سے جاگ اٹھیں گی تو کیا ہوگا صبح کیا جانے کہاں ہوتی ہے کب ہوتی ہے جانے انسان نے کس وقت یہ نعمت پائی میری قسمت میں بس اک سلسلۂ شام و سحر میرے کمرے کے مقدر میں فقط تنہائی

— مصطفی زیدی