مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

پنواڑی

بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری نام کی اک ہٹی کے اندر بوسیدہ الماری آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری پان کتھا سگریٹ تمباکو چونا لونگ سپاری عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری چونا گھولتے چھالیاں کاٹتے کتھ پگھلاتے گزری سگریٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزری کتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزری چند کسیلی پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری کون اس گتھی کو سلجھائے دنیا ایک پہیلی دو دن ایک پھٹی چادر میں دکھ کی آندھی جھیلی دو کڑوی سانسیں لیں دو چلموں کی راکھ انڈیلی اور پھر اس کے بعد نہ پوچھو کھیل جو ہونی کھیلی پنواڑی کی ارتھی اٹھی بابا اللہ بیلی صبح بھجن کی تان منوہر جھنن جھنن لہرائے ایک چتا کی راکھ ہوا کے جھونکوں میں کھو جائے شام کو اس کا کمسن بالا بیٹھا پان لگائے جھن جھن ٹھن ٹھن چونے والی کٹوری بجتی جائے ایک پتنگا دیپک پر جل جائے دوسرا آئے

— مجید امجد