مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا

دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا انجمن انجمن رہا تنہا ڈھلتے سایوں میں تیرے کوچے سے کوئی گزرا ہے بارہا تنہا تیری آہٹ قدم قدم اور میں اس معیت میں بھی رہا تنہا کہنا یادوں کے برف زاروں سے ایک آنسو بہا بہا تنہا ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل اک کھنڈر سا رہا سہا تنہا گونجتا رہ گیا خلاؤں میں وقت کا ایک قہقہہ تنہا

— مجید امجد

عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں

عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں روح کی مدہوش بے داری کا ساماں ہو گئیں پیار کی میٹھی نظر سے تو نے جب دیکھا مجھے تلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں اب لب رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ کیا کہوں بجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثار ہائے وہ آنکھیں جو ضبط غم میں گریاں ہو گئیں چھا گئیں دشواریوں پر میری سہل انگاریاں مشکلوں کا اک خیال آیا کہ آساں ہو گئیں

— مجید امجد

چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا

چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا کیا دن تھے جب خیال تمنا لباس تھا عریاں زمانہ گیر شررگوں جبلتیں کچھ تھا تو ایک برگ دل ان کا لباس تھا اس موڑ پر ابھی جسے دیکھا ہے کون تھا سنبھلی ہوئی نگاہ تھی سادہ لباس تھا یادوں کے دھندلے دیس کھلی چاندنی میں رات تیرا سکوت کس کی صدا کا لباس تھا ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو ان کی روح بے پیرہن تھی جسم سراپا لباس تھا صدیوں کے گھاٹ پر بھرے میلوں کی بھیڑ میں اے درد شادماں ترا کیا کیا لباس تھا دیکھا تو دل کے سامنے سایوں کے جشن میں ہر عکس آرزو کا انوکھا لباس تھا امجدؔ قبائے شہ تھی کہ چولا فقیر کا ہر بھیس میں ضمیر کا پردا لباس تھا

— مجید امجد

قریب دل خروش صد جہاں ہم

قریب دل خروش صد جہاں ہم جو تم سن لو تمہاری داستاں ہم کسی کو چاہنے کی چاہ میں گم جئے بن کر نگاہ تشنگاں ہم ہر اک ٹھوکر کی زد میں لاکھ منزل ہمیں ڈھونڈو نصیب گمرہاں ہم ہمیں سمجھو نگاہ ناز والو لبوں پر کانپتا حرف بیاں ہم بجھی سمتوں کی اس نگری میں امجدؔ ابھرتے آفتابوں کی کماں ہم

— مجید امجد