سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا
دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا انجمن انجمن رہا تنہا ڈھلتے سایوں میں تیرے کوچے سے کوئی گزرا ہے بارہا تنہا تیری آہٹ قدم قدم اور میں اس معیت میں بھی رہا تنہا کہنا یادوں کے برف زاروں سے ایک آنسو بہا بہا تنہا ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل اک کھنڈر سا رہا سہا تنہا گونجتا رہ گیا خلاؤں میں وقت کا ایک قہقہہ تنہا
عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں
عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں روح کی مدہوش بے داری کا ساماں ہو گئیں پیار کی میٹھی نظر سے تو نے جب دیکھا مجھے تلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں اب لب رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ کیا کہوں بجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثار ہائے وہ آنکھیں جو ضبط غم میں گریاں ہو گئیں چھا گئیں دشواریوں پر میری سہل انگاریاں مشکلوں کا اک خیال آیا کہ آساں ہو گئیں
چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا
چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا کیا دن تھے جب خیال تمنا لباس تھا عریاں زمانہ گیر شررگوں جبلتیں کچھ تھا تو ایک برگ دل ان کا لباس تھا اس موڑ پر ابھی جسے دیکھا ہے کون تھا سنبھلی ہوئی نگاہ تھی سادہ لباس تھا یادوں کے دھندلے دیس کھلی چاندنی میں رات تیرا سکوت کس کی صدا کا لباس تھا ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو ان کی روح بے پیرہن تھی جسم سراپا لباس تھا صدیوں کے گھاٹ پر بھرے میلوں کی بھیڑ میں اے درد شادماں ترا کیا کیا لباس تھا دیکھا تو دل کے سامنے سایوں کے جشن میں ہر عکس آرزو کا انوکھا لباس تھا امجدؔ قبائے شہ تھی کہ چولا فقیر کا ہر بھیس میں ضمیر کا پردا لباس تھا
قریب دل خروش صد جہاں ہم
قریب دل خروش صد جہاں ہم جو تم سن لو تمہاری داستاں ہم کسی کو چاہنے کی چاہ میں گم جئے بن کر نگاہ تشنگاں ہم ہر اک ٹھوکر کی زد میں لاکھ منزل ہمیں ڈھونڈو نصیب گمرہاں ہم ہمیں سمجھو نگاہ ناز والو لبوں پر کانپتا حرف بیاں ہم بجھی سمتوں کی اس نگری میں امجدؔ ابھرتے آفتابوں کی کماں ہم