سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر
گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر یہ دوریوں کا سیل رواں برگ نامہ بھیج یہ فاصلوں کے بند گراں کوئی بات کر تیرا دیار رات مری بانسری کی لے اس خواب دل نشیں کو مری کائنات کر میرے غموں کو اپنے خیالوں میں بار دے ان الجھنوں کو سلسلۂ واقعات کر آ ایک دن مرے دل ویراں میں بیٹھ کر اس دشت کے سکوت سخن جو سے بات کر امجدؔ نشاط زیست اسی کشمکش میں ہے مرنے کا قصد جینے کا عزم ایک سات کر
بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے
بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے خرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہے یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میں ہوائے شام میں مہکیں ذرا جو تو چاہے تجھے تو علم ہے کیوں میں نے اس طرح چاہا جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا جو تو چاہے جب ایک سانس گھسے ساتھ ایک نوٹ پسے نظام زر کی حسیں آسیا جو تو چاہے بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاد اب اے اسیر کمند ہوا جو تو چاہے ذرا شکوہ دوعالم کے گنبدوں میں لرز پھر اس کے بعد تیرا فیصلہ جو تو چاہے سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہا جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجدؔ کھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ جو تو چاہے