مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر

گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر یہ دوریوں کا سیل رواں برگ نامہ بھیج یہ فاصلوں کے بند گراں کوئی بات کر تیرا دیار رات مری بانسری کی لے اس خواب دل نشیں کو مری کائنات کر میرے غموں کو اپنے خیالوں میں بار دے ان الجھنوں کو سلسلۂ واقعات کر آ ایک دن مرے دل ویراں میں بیٹھ کر اس دشت کے سکوت سخن جو سے بات کر امجدؔ نشاط زیست اسی کشمکش میں ہے مرنے کا قصد جینے کا عزم ایک سات کر

— مجید امجد

بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے

بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے خرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہے یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میں ہوائے شام میں مہکیں ذرا جو تو چاہے تجھے تو علم ہے کیوں میں نے اس طرح چاہا جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا جو تو چاہے جب ایک سانس گھسے ساتھ ایک نوٹ پسے نظام زر کی حسیں آسیا جو تو چاہے بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاد اب اے اسیر کمند ہوا جو تو چاہے ذرا شکوہ دوعالم کے گنبدوں میں لرز پھر اس کے بعد تیرا فیصلہ جو تو چاہے سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہا جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجدؔ کھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ جو تو چاہے

— مجید امجد