مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

نگاہ باز گشت

آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعت دید آج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو میری تشنہ نگاہوں کی صدا کوئی بھی سن نہ سکا صرف اک تیرے ہی دل تک یہ صدا جاگتی دنیا کے کہرام سے چپ چاپ گزر کر پہنچی صرف اک تو نے پلٹ کر مری جانب دیکھا مجھے تو نے تجھے میں نے دیکھا آج تھی میری نگاہوں کے مقدر میں عجب ساعت دید کیا خبر پھر تو پلٹ کر مری جانب کبھی دیکھے کہ نہ دیکھے لیکن ایک عمر اب میں یوں ہی اپنی طرف دیکھتے دیکھوں گا تجھے

— مجید امجد

جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی

جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی کبھی سفر ہی سفر میں جو عمر رفتہ کی سمت پلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گرد فردا بھی بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دیے وہ گھاؤ جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی کسی کی روح سے تھا ربط اور اپنے حصے میں تھی وہ بے کلی جو ہے موج زماں کا حصہ بھی یہ آنکھیں ہنستی وفائیں یہ پلکیں جھکتے خلوص کچھ اس سے بڑھ کے کسی نے کسی کو سمجھا بھی یہ رسم حاصل دنیا ہے اک یہ رسم سلوک ہزار اس میں سہی نفرتوں کا ایما بھی دلوں کی آنچ سے تھا برف کی سلوں پہ کبھی سیاہ سانسوں میں لتھڑا ہوا پسینہ بھی مجھے ڈھکی چھپی ان بوجھی الجھنوں سے ملا جچی تلی ہوئی اک سانس کا بھروسا بھی کبھی کبھی انہی الھڑ ہواؤں میں امجدؔ سنا ہے دور کے اک دیس کا سندیسا بھی

— مجید امجد