مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

افراسیاب کا پیش کردہ کلام

اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ

اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر روشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹ بج گئی کیا کیا بانسری رو گئے کیا کیا لوگ میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوار صدیوں کے کہرام میں سو گئے کیا کیا لوگ گٹھڑی کال رین کی سونٹی سے لٹکائے اپنی دھن میں دھیان نگر کو گئے کیا کیا لوگ میٹھے میٹھے بول میں دوہے کا ہنڈول سن سن اس کو بانورے ہو گئے کیا کیا لوگ

— مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا اک تنکا آشیانہ اک راگنی اثاثہ اک موسم بہاراں مہمان دو گھڑی کا آخر کوئی کنارا اس سیل بے کراں کا آخر کوئی مداوا اس درد زندگی کا میری سیاہ شب نے اک عمر آرزو کی لرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا شاید ادھر سے گزرے پھر بھی ترا سفینہ بیٹھا ہوا ہوں ساحل پر نے بہ لب کبھی کا اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بے رخی کا اب میری زندگی میں آنسو ہیں اور نہ آہیں لیکن یہ ایک میٹھا میٹھا سا روگ جی کا او مسکراتے تارو او کھلکھلاتے پھولو کوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا

— مجید امجد