سپیکرز
افراسیاب کا پیش کردہ کلام
اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ
اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر روشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹ بج گئی کیا کیا بانسری رو گئے کیا کیا لوگ میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوار صدیوں کے کہرام میں سو گئے کیا کیا لوگ گٹھڑی کال رین کی سونٹی سے لٹکائے اپنی دھن میں دھیان نگر کو گئے کیا کیا لوگ میٹھے میٹھے بول میں دوہے کا ہنڈول سن سن اس کو بانورے ہو گئے کیا کیا لوگ
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا اک تنکا آشیانہ اک راگنی اثاثہ اک موسم بہاراں مہمان دو گھڑی کا آخر کوئی کنارا اس سیل بے کراں کا آخر کوئی مداوا اس درد زندگی کا میری سیاہ شب نے اک عمر آرزو کی لرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا شاید ادھر سے گزرے پھر بھی ترا سفینہ بیٹھا ہوا ہوں ساحل پر نے بہ لب کبھی کا اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بے رخی کا اب میری زندگی میں آنسو ہیں اور نہ آہیں لیکن یہ ایک میٹھا میٹھا سا روگ جی کا او مسکراتے تارو او کھلکھلاتے پھولو کوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا