سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
افراسیاب
امل خان
ایم سعید
حسن جتوئی
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
راشد نور
زاہدحسین
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی
اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی روحوں میں جلتی آگ خیالوں میں کھلتے پھول ساری صداقتیں کسی کافر نگاہ کی جب بھی غم زمانہ سے آنکھیں ہوئیں دو چار منہ پھیر کر تبسم دل پر نگاہ کی باگیں کھنچیں مسافتیں کڑکیں فرس رکے ماضی کی رتھ سے کس نے پلٹ کر نگاہ کی دونوں کا ربط ہے تری موج خرام سے لغزش خیال کی ہو کہ ٹھوکر نگاہ کی
دل سے ہر گزری بات گزری ہے
دل سے ہر گزری بات گزری ہے کس قیامت کی رات گزری ہے چاندنی نیم وا دریچہ سکوت آنکھوں آنکھوں میں رات گزری ہے ہائے وہ لوگ خوب صورت لوگ جن کی دھن میں حیات گزری ہے تمتماتا ہے چہرۂ ایام دل پہ کیا واردات گزری ہے کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موج کتنی یادوں کے سات گزری ہے پھر کوئی آس لڑکھڑائی ہے کہ نسیم حیات گزری ہے بجھتے جاتے ہیں دکھتی پلکوں پہ دیپ نیند آئی ہے رات گزری ہے