مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی

اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی روحوں میں جلتی آگ خیالوں میں کھلتے پھول ساری صداقتیں کسی کافر نگاہ کی جب بھی غم زمانہ سے آنکھیں ہوئیں دو چار منہ پھیر کر تبسم دل پر نگاہ کی باگیں کھنچیں مسافتیں کڑکیں فرس رکے ماضی کی رتھ سے کس نے پلٹ کر نگاہ کی دونوں کا ربط ہے تری موج خرام سے لغزش خیال کی ہو کہ ٹھوکر نگاہ کی

— مجید امجد

دل سے ہر گزری بات گزری ہے

دل سے ہر گزری بات گزری ہے کس قیامت کی رات گزری ہے چاندنی نیم وا دریچہ سکوت آنکھوں آنکھوں میں رات گزری ہے ہائے وہ لوگ خوب صورت لوگ جن کی دھن میں حیات گزری ہے تمتماتا ہے چہرۂ ایام دل پہ کیا واردات گزری ہے کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موج کتنی یادوں کے سات گزری ہے پھر کوئی آس لڑکھڑائی ہے کہ نسیم حیات گزری ہے بجھتے جاتے ہیں دکھتی پلکوں پہ دیپ نیند آئی ہے رات گزری ہے

— مجید امجد