مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم (ردیف .. ا)

صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم اک لمحہ آ کے ہنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ ہر سو شرر برس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں دن دلدلوں میں دھنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا راہیں دھوئیں سے بھر گئیں میں منتظر رہا قرنوں کے رخ جھلس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے تم دور جا کے بس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا

— مجید امجد

یہ دنیا

یہ دنیا یہ بے ربط سی ایک زنجیر یہ دنیا یہ اک نامکمل سی تصویر یہ دنیا نہیں میرے خوابوں کی تعبیر میں جب دیکھتا ہوں یہ بزمِ فانی غمِ جاودانی کی ہے اِک کہانی تو چیخ اُٹھتی ہے میری باغی جوانی یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دُنیا گُناہوں میں لتھڑے رواجوں کی دُنیا محّبت کے دشمن سماجوں کی دُنیا یہاں پر کلی دل کی کھلتی نہیں ہے کوئی چِق دریچوں کی ہلتی نہیں ہے مَرے عشق کو بھیک ملتی نہیں ہے اگر میں خُدا اس زمانے کا ہوتا تو عنوان اور اس فسانے کا ہوتا عجب لطف دنیا میں آنے کا ہوتا​

— مجید امجد