مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی

کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی وہ رات گئی وہ بات گئی وہ ریت گئی رت بیت گئی اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول آنکھوں کے دیے اک گونجتی آندھی وقت کی بازی جیت گئی رت بیت گئی تم آ گئے میری باہوں میں کونین کی پینگیں جھول گئیں تم بھول گئے، جینے کی جگت سے ریت گئی رت بیت گئی پھر تیر کے میرے اشکوں میں گل پوش زمانے لوٹ چلے پھر چھیڑ کے دل میں ٹیسوں کے سنگیت گئی رت بیت گئی اک دھیان کے پاؤں ڈول گئے اک سوچ نے بڑھ کر تھام لیا اک آس ہنسی اک یاد سنا کر گیت گئی رت بیت گئی یہ لالہ و گل کیا پوچھتے ہو سب لطف نظر کا قصہ ہے رت بیت گئی جب دل سے کسی کی پیت گئی رت بیت گئی

— مجید امجد

جنون عشق کی رسم عجیب کیا کہنا

جنون عشق کی رسم عجیب کیا کہنا میں ان سے دور وہ میرے قریب کیا کہنا یہ تیرگیٔ مسلسل میں ایک وقفۂ نور یہ زندگی کا طلسم عجیب کیا کہنا جو تم ہو برق نشیمن تو میں نشیمن برق الجھ پڑے ہیں ہمارے نصیب کیا کہنا ہجوم رنگ فراواں سہی مگر پھر بھی بہار نوحۂ صد عندلیب کیا کہنا ہزار قافلۂ زندگی کی تیرہ شبی یہ روشنی سی افق کے قریب کیا کہنا لرز گئی تری لو میرے ڈگمگانے سے چراغ گوشۂ کوئے حبیب کیا کہنا

— مجید امجد