مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

راشد نور کا پیش کردہ کلام

آٹوگراف

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے کتابچے لیے ہوئے کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلے گرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کے کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف بیاض آرزو بکف نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں لرز رہا ہے دم بہ دم کمان ابرواں کا خم کوئی جب ایک ناز بے نیاز سے کتابچوں پہ کھنچتا چلا گیا حروف کج تراش کی لکیر سی تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی کسی عظیم شخصیت کی تمکنت حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز نبض رک گئی وہ باؤلر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلک گوہریں پھری حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری میں اجنبی میں بے نشاں میں پا بہ گل نہ رفعت مقام ہے نہ شہرت دوام ہے یہ لوح دل یہ لوح دم نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

— مجید امجد

میونخ

آج کرسمس ہے شہر میونخ میں آج کرسمس ہے رودبارِ عسار کے پُل پر جس جگہ برف کی سلوں کی سڑک فان کاچے کی سمت مڑتی ہے قافلے قہقہوں کے اترے ہیں آج اس قریۂ شرا ب کے لوگ — جن کے رخ پر ہزیمتوں کا عرق جن کے دل میں جراحتوں کی خراش ایک عزمِ نشاط جو کے ساتھ امڈ آئے ہیں مست راہوں پر بانہیں بانہوں میں، ہونٹ ہونٹوں پر! برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں کوئے میریں کے اک گھروندے میں ایک بوڑھی، اداس ماں کے لیے پھول اک طاقچے پہ ہنستے ہیں گرم انگیٹھی کے عکسِ لرزاں سے آگ اک آئینے میں جلتی ہے ایک دستک ہے! کون آیا ہے؟ زرد کمرے کے گوشے گوشے میں جورِ ماضی کا سایۂ مصلوب آخری سانس لینے لگتا ہے ماں کے چہرے کی ہر عمیق شکن ایک حیران مسکراہٹ کے دلنشیں زاویوں میں ڈھلتی ہے ’’میری شالاط، اے مری شالاط اے میں قرباں، تم آ گئیں، بیٹی!‘‘ اور وہ دختِ ارضِ الماں جب سر سے گٹھڑی اتار کر جھک کر اپنی امی کے پاؤں پڑتی ہے اس کی پلکوں پہ ملک ملک کی گرد ایک آنسو میں ڈوب جاتی ہے ایک مفتوح قوم کی بیٹی پارۂ ناں کے واسطے، تنہا روئے عالم کی خاک چھان آئی دس برس کے طویل عرصے کے بعد آج وہ اپنے ساتھ کیا لائی؟ روح میں، دیس دیس کے موسم! بزمِ دوراں سے کیا ملا اس کو؟ سیپ کی چوڑیاں ملایا سے کینچلی چین کے اک اژدر کی ٹھیکری اِک مہنجودارو کی ایک نازک بیاض پر، مرا نام کون سمجھے گا اس پہیلی کو؟ فاصلوں کی کمند سے آزاد میرا دل ہے کہ شہرِ میونخ ہے چار سو، جس طرف کوئی دیکھے برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں

— مجید امجد