مجید امجد

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد

24 January 2026

19سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے

سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے وہ لوگ جو ابھی اس قریۂ بہار میں تھے وہ ایک چہرے پہ بکھرے عجب عجب سے خیال میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے وہ ہونٹ جن میں تھا میٹھی سی ایک پیاس کا رس میں جانتا تو وہ دریا مرے کنار میں تھے مجھے خبر بھی نہ تھی اور اتفاق سے کل میں اس طرف سے جو گزرا وہ انتظار میں تھے میں کچھ سمجھ نہ سکا میری زندگی کے وہ خواب ان انکھڑیوں میں جو تیرے تھے کس شمار میں تھے میں دیکھتا تھا وہ آئے بھی اور چلے بھی گئے ابھی یہیں تھے ابھی گرد روزگار میں تھے میں دیکھتا تھا اچانک یہ آسماں یہ کرے بس ایک پل کو رکے اور پھر مدار میں تھے ہزار بھیس میں سیار موسموں کے سفیر تمام عمر مری روح کے دیار میں تھے

— مجید امجد

اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے

اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے کانٹوں سے الجھ کر جینا ہے پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے شاید وہ زمانہ لوٹ آئے شاید وہ پلٹ کر دیکھ بھی لیں ان اجڑی اجڑی نظروں میں پھر کوئی فسانہ بھرنا ہے یہ سوز دروں یہ اشک رواں یہ کاوش ہستی کیا کہیے مرتے ہیں کہ کچھ دن جی لیں ہم جیتے ہیں کہ آخر مرنا ہے اک شہر وفا کے بند دریچے آنکھیں میچے سوچتے ہیں کب قافلہ ہائے خندۂ گل کو ان راہوں سے گزرنا ہے اس نیلی دھند میں کتنے بجھتے زمانے راکھ بکھیر گئے اک پل کی پلک پر دنیا ہے کیا جینا ہے کیا مرنا ہے رستوں پہ اندھیرے پھیل گئے اک منزل غم تک شام ہوئی اے ہم سفرو کیا فیصلہ ہے اب چلنا ہے کہ ٹھہرنا ہے ہر حال میں اک شوریدگیٔ افسون تمنا باقی ہے خوابوں کے بھنور میں بہہ کر بھی خوابوں کے گھاٹ اترنا ہے

— مجید امجد