سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے
سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے وہ لوگ جو ابھی اس قریۂ بہار میں تھے وہ ایک چہرے پہ بکھرے عجب عجب سے خیال میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے وہ ہونٹ جن میں تھا میٹھی سی ایک پیاس کا رس میں جانتا تو وہ دریا مرے کنار میں تھے مجھے خبر بھی نہ تھی اور اتفاق سے کل میں اس طرف سے جو گزرا وہ انتظار میں تھے میں کچھ سمجھ نہ سکا میری زندگی کے وہ خواب ان انکھڑیوں میں جو تیرے تھے کس شمار میں تھے میں دیکھتا تھا وہ آئے بھی اور چلے بھی گئے ابھی یہیں تھے ابھی گرد روزگار میں تھے میں دیکھتا تھا اچانک یہ آسماں یہ کرے بس ایک پل کو رکے اور پھر مدار میں تھے ہزار بھیس میں سیار موسموں کے سفیر تمام عمر مری روح کے دیار میں تھے
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے کانٹوں سے الجھ کر جینا ہے پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے شاید وہ زمانہ لوٹ آئے شاید وہ پلٹ کر دیکھ بھی لیں ان اجڑی اجڑی نظروں میں پھر کوئی فسانہ بھرنا ہے یہ سوز دروں یہ اشک رواں یہ کاوش ہستی کیا کہیے مرتے ہیں کہ کچھ دن جی لیں ہم جیتے ہیں کہ آخر مرنا ہے اک شہر وفا کے بند دریچے آنکھیں میچے سوچتے ہیں کب قافلہ ہائے خندۂ گل کو ان راہوں سے گزرنا ہے اس نیلی دھند میں کتنے بجھتے زمانے راکھ بکھیر گئے اک پل کی پلک پر دنیا ہے کیا جینا ہے کیا مرنا ہے رستوں پہ اندھیرے پھیل گئے اک منزل غم تک شام ہوئی اے ہم سفرو کیا فیصلہ ہے اب چلنا ہے کہ ٹھہرنا ہے ہر حال میں اک شوریدگیٔ افسون تمنا باقی ہے خوابوں کے بھنور میں بہہ کر بھی خوابوں کے گھاٹ اترنا ہے