سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے ایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے یہ نماز عشق ہے کیسا ادب کس کا ادب اپنے پائے ناز پر کرنے بھی دے سجدا مجھے کہہ کے سویا ہوں یہ اپنے اضطراب شوق سے جب وہ آئیں قبر پر فوراً جگا دینا مجھے صبح تک کیا کیا تری امید نے طعنے دیے آ گیا تھا شام غم اک نیند کا جھوکا مجھے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گا دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے جلوہ گر ہے اس میں اے سیمابؔ اک دنیائے حسن جام جم سے ہے زیادہ دل کا آئینہ مجھے

— سیماب اکبرآبادی

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں لگاؤ ہے مری تنہائیوں سے فطرت کو تمام رات ستارے لگائے جاتے ہیں سمائی جاتی ہیں دل میں وہ کفر بار آنکھیں یہ بت کدے مرے کعبے پہ چھائے جاتے ہیں سمجھ حقیر نہ ان زندگی کے لمحوں کو ارے انہیں سے زمانے بنائے جاتے ہیں ہیں دل کے داغ بھی کیا دل کے داغ اے سیمابؔ ٹپک رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں

— سیماب اکبرآبادی