سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

بلبل اور گلاب

بلبل اے رنگ بھرے گلاب کے پھول اس شان اس آب و تاب کے پھول دلچسپ بہت ہیں رنگ تیرے ہیں مجھ کو پسند ڈھنگ تیرے کھلتا ہے جو تو اس انجمن میں لگتی ہے اک آگ سی چمن میں کیا یہ اثر ہے پنکھڑی میں کیسی ہے چٹک کلی کلی میں کس نے تجھے اسقدر سجایا کس نے تجھے باغ میں کھلایا کیوں تجھ میں ہے دل کشی زیادہ کس ملک کا تو ہے شاہزادہ گلاب اے رنگ بھرے ترانے والی گلشن میں بہار گانے والی اے باغ کی لا جواب چڑیا اے شیفتۂ گلاب چڑیا جس نے تجھے چہچہے دئے ہیں دلچسپ یہ زمزمے دیے ہیں اس نے مجھے پھول ہے بنایا اک پیڑ کی شاخ سے اگایا سب پھول ہیں میرے آگے سادہ اس باغ کا ہوں میں شاہزادہ مجھ سا نہیں اور کوئی خوش بخت ہے میرے لئے بہار کا تخت بلبل پیارے مرے اے گلاب کے پھول اے گلشن لا جواب کے پھول رنگین خموش سیدھے سادے اے ملک چمن کے شاہزادے کرتی ہے بہار جب کنارا ہو جاتا ہے زرد باغ سارا آتا نہیں کیوں مجھے نظر تو جاتا ہے چھپا چھپا کدھر تو مرجھاتی ہیں تیری ساری کلیاں رہتی نہیں پھر یہ رنگ رلیاں اڑ جاتی ہے بو حنا کی مانند ہوتا ہے فنا ہوا کی مانند گلاب اے مطربۂ بہار بلبل اے عاشق بیقرار بلبل ہوتا ہوں میں خاک ہی سے پیدا آخر کو ہوں خاک ہی میں ملتا غم خوار بھی غم گسار بھی ہے ماں بھی ہے یہی مزار بھی ہے دنیا میں ہیں جتنے پھول کلیاں ہے سب میں بقا فنا نمایاں مرجھا کے ہر ایک پھول پتا ہوتا ہے پھر اس زمیں سے پیدا ہر پھول میں ہے خدا کی قدرت ہر خار میں ہے اسی کی حکمت

— سیماب اکبر آبادی

آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا

آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا میرا دامن آج دامان ثریا ہو گیا اس کے جی میں کیا یہ آئی یہ اسے کیا ہو گیا خود چھپا عالم سے اور خود عالم آرا ہو گیا بندۂ معنیٰ کہاں صورت کا بندا ہو گیا سوچتا ہوں مجھ کو کیا ہونا تھا میں کیا ہو گیا پھر تصور نے بڑھا دی نالۂ موزوں کی لے پھر سواد فکر سے اک شعر پیدا ہو گیا اب کہاں مایوسیوں میں جھلکیاں امید کی وہ بھی کیا دن تھے کہ تیرا غم گوارا ہو گیا جان دے دی میں نے تنگ آ کر وفور درد سے آج منشائے جفائے دوست پورا ہو گیا برہمن کہتا تھا برہم شیخ بول اٹھا احد حرف کے اک پھیر سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا وحدت و کثرت کے جلوے خلقت انساں میں دیکھ ایک ذرہ اس قدر پھیلا کہ دنیا ہو گیا بربریت کی جہاں میں گرم بازاری ہوئی آدمیت کی رگوں میں خون ٹھنڈا ہو گیا آشیاں بننے نہ پایا تھا کہ بجلی گر پڑی باغ ابھی بسنے نہ پایا تھا کہ صحرا ہو گیا آ گیا سیلاب بالیں تک وفور گریہ سے رحم کر یا رب کہ پانی سر سے اونچا ہو گیا اتفاق وقت تھا اپنا فروغ آشیاں جب کوئی جگنو چمک اٹھا اجالا ہو گیا دل کھنچا جتنا قفس میں آشیانے کی طرف دور اتنا ہی قفس سے آشیانا ہو گیا ہم مسافر تھے ہمارا مستقر کوئی نہ تھا رات جب آئی جہاں آئی بسیرا ہو گیا ہو گئے رخصت رئیسؔ و عالیؔ و واصفؔ نثارؔ رفتہ رفتہ آگرہ سیمابؔ سونا ہو گیا

— سیماب اکبرآبادی