سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے

وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے بنا لیتا ہے خود اپنے لئے جلوے یہ وہ دل ہے ہے باطل محفل عالم تو پھر مشکل ہی مشکل ہے مری نظریں بھی باطل ہیں ترا جلوہ بھی باطل ہے وہاں ہوں میں جہاں تمئیز حسن و عشق مشکل ہے ہر اک جلوہ اب آغوش نظر میں جلوۂ دل ہے کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے ترا ادراک مشکل تھا ترا ادراک مشکل ہے یہ ویرانی تصور کی وہ رنگینی خیالوں کی کبھی محفل میں خلوت ہے کبھی خلوت میں محفل ہے غلط سمجھا جو تو محدود سمجھا راہ ہستی کو جہاں ہوتی ہے منزل ختم وہ آغاز منزل ہے جنوں کا ہاتھ دامن سے نہ پہنچا پردۂ دل تک ابھی باقی وہی پابندیٔ آداب محمل ہے بقدر ظرف و ہمت سہل و مشکل ہے رہ الفت یہاں ساحل بھی دریا ہے یہاں دریا بھی ساحل ہے اڑا کر دھجیاں پیراہن ہستی کی خوش تھا میں ندا آئی یہ دیوانے جنوں کی پہلی منزل ہے ہوئی معلوم وجہ اضطراب و شورش عالم یہاں دل ہے ہر اک ذرہ ہر اک ذرہ میں اک دل ہے میں غافل ہو کے دانستہ خراب بزم ہستی ہوں سمجھتا ہوں کہ یہ محفل نہیں ہے خواب محفل ہے وہ آئینہ ہو یا ہو پھول تارہ ہو کہ پیمانہ کہیں جو کچھ بھی ٹوٹا میں یہی سمجھا مرا دل ہے نہ چھیڑ اے نغمہ گر تسکین بے ہنگامہ کے نغمے فضاؤں میں ابھی گنجائش شور سلاسل ہے اجالا ہو تو ڈھونڈوں دل بھی پروانوں کی لاشوں میں مری بربادیوں کو انتظار صبح محفل ہے الٰہی غفلت عالم کو رنگ ہوشیاری دے کہ تو غافل نہیں دنیا سے دنیا تجھ سے غافل ہے وہ دل لے کر ہمیں بے دل نہ سمجھیں ان سے کہہ دینا جو ہیں مارے ہوئے نظروں کے ان کی ہر نظر دل ہے وہ اے سیمابؔ کیوں سرگشتۂ تسنیم و جنت ہو میسر جس کو سیر تاج اور جمنا کا ساحل ہے

— سیماب اکبر آبادی

وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے

وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے تو اپنے ہر تصور میں مری تصویر دیکھیں گے سنا ہے حسن کو دہ چند کر دیتا ہے یہ شیشہ لگا کر اپنے دل میں آپ کی تصویر دیکھیں گے وفا کا تذکرہ کیا اب تو یہ ارشاد ہے ان کا کہ تم نالہ کرو ہم گرمئ تاثیر دیکھیں گے شکستہ ہر کڑی ہے ہر کڑی میں دل کے ٹکڑے ہیں بڑی عبرت سے دیوانے مری زنجیر دیکھیں گے خیال حشر و نشر فکر اے سیمابؔ لا حاصل کہ ہے تقدیر میں جو کچھ بہر تقدیر دیکھیں گے

— سیماب اکبر آبادی